پشاور، 10 مئی(اے پی پی): صوبائی وزیر تعلیم شہرام خان ترکئی نے کہا ہے کہ تین سال کے وقفے کے بعد اس سال پورے کورس کے تمام مضامین میں امتحان لیا جائے گا، اس سال میٹرک میں 8 لاکھ 21ہزر 9 سو 6 طلباء و طالبات اور انٹر میڈیٹ میں 5 لاکھ 34ہزار 1سو 18طلباء و طالبات امتحان دیں گے۔
ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر تعلیم نے میٹرک اور انٹرمیڈیٹ امتحانات کی تیاری اور لائحہ عمل کے لئے منعقد کئے گئے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کی۔
صوبائی وزیر تعلیم شہرام خان ترکئی نے کہا کہ پورے صوبے میں میٹرک کے لیے 3 ہزار 2 سو 53 اور انٹر کے لیے 1ہزار 8 سو 45 امتحانی مراکز قائم کیے گئے ہیں جبکہ میٹرک میں 23 ہزار 7 سو 20 اور انٹر میں 14ہزار 2 سو 9 سپروائزری عملہ تعینات کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام بورڈز میں مانیٹرنگ کے لیے کنٹرول رومز قائم ہیں اور صوبے کے تمام امتحانی مراکز کی بزریعہ CCTV کیمروں مانیٹرنگ ہوگی۔
شہرام خان ترکئی نے بورڈ سربراہان کو ہدایت کی کہ متعلقہ اضلاع میں دوران پیپر مقررہ وقت تک بجلی کی بلاتعطل فراہمی کے لیے محکمہ واپڈا کے ساتھ رابطے میں رہیں۔انہوں نے یہ بھی ہدایت کی کہ بروقت امتحانی نتائج کی تیاری اور معیاری چیکنگ کے لیے پیپر چیکرز کی تعداد زیادہ کریں،تعلیمی بورڈز کا مقصد پیسے کمانا نہیں امتحانات کے انعقاد اور معیار پر زیادہ سے زیادہ بجٹ خرچ کیا جائے۔
وزیر تعلیم شہرام خان ترکئی نے ہدایت کی کہ متعلقہ مضامین میں تعلیمی قابلیت اور درس و تدریس میں وسیع تجربہ رکھنے والے اساتذہ سے پیپرز کی چیکنگ کروائی جائے، پیپر چیکرز اور امتحانی عملے کے معاوضے میں بھی اضافہ کریں اور جہاں پر کیمرے نصب نہ ہوں یا پھر ریکارڈنگ کا کوئی دوسرا متبادل انتظام موجود نہ ہو ان ہالوں کے خلاف قانونی کارروائی کریں۔
شہرام خان ترکئی نے کہا ہے کہ طلباء وطالبات کو سہولیات کی فراہمی اولین ترجیح ہے، تمام بورڈز جلد اذجلد سٹوڈنٹس فیسیلیٹیشن سنٹرز فعال کریں، زیادہ تر خدمات آن لائن ہیں، مزید ریفامز بھی لائیں تاکہ طلباء اور اساتذہ کا وقت ضائع نہ ہو ۔
شہرام خان ترکئی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ سہولت کے پیش نظر اس سال صوابی اور نوشہرہ میں مارکنگ سنٹرز بھی قائم کیے گئے ہیں جب کہ طلباء و طلبات فیس جمع کرکے پیپر نمبرات کے متعلق بھی تمام معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔
اجلاس میں سپیشل سیکرٹری ایجوکیشن عامر آفاق، مینجنگ ڈائریکٹر پرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی کبیر خان آفریدی اور صوبے کے تمام بورڈ سربراہان نے شرکت کی۔











