اقلیت کا لفظ امتیازی نہیں ، درحقیقت مائنڈ سیٹ امتیازی ہے اور اس کو بدلنے کی ضرورت ہے؛ شازیہ مری

10

اسلام آباد،23مئی  (اے پی پی):وفاقی وزیربرائے تخفیف غربت وسماجی تحفظ شازیہ مری نے کہا ہے کہ اقلیت کا لفظ امتیازی نہیں ہے لیکن درحقیقت مائنڈ سیٹ امتیازی ہے اور اس مائنڈ سیٹ کو بدلنے کی ضرورت ہے کیونکہ لوگوں کو اس کا احساس کرنے کی ضرورت ہے کہ جو یہاں اقلیت ہے وہ کہیں اور اکثریت ہے۔

ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر برائے تخفیف غربت اور سماجی تحفظ، شازیہ مری  نے  قومی کمیشن برائے انسانی حقوق  کی زیر اہتمام  اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک کے خاتمے کے موضوع پر منعقدہ کانفرنس سے خطاب میں کیا۔انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کو حقوق کی فراہمی حکومت اور خاص طور پر پاکستان پیپلز پارٹی  کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے حاضرین کو بتایا کہ 11 اگست کو اُس وقت کے صدر آصف علی زرداری نے یوم اقلیت قرار دیا تھا۔

وفاقی وزیر شازیہ مری نےکہا کہ پاکستان کا آئین سب کے لیے برابری کا مطالبہ کرتا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئین کا دیباچہ اقلیتوں کے حقوق کا محافظ ہے۔انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان بقائے باہمی پر زور دیتا ہے۔ یہ پی پی پی ہی تھی جس نے 2009 میں اقلیتوں کو 5% کوٹہ دیا  ۔ انہوں نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام  میں اقلیتوں کے مستحق افراد کی شمولیت کیلئے ایک  ولولہ انگیز سروے کا نظام موجود ہے۔