زرعی ایمر جنسی پروگرام کے تحت بڑھوتری پیداوار کماد، دھان،گندم ، تل کے منصوبوں پر بھاری سبسڈی فراہم کی جارہی ہے،ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت توسیع فیصل آباد

21

 

فیصل آباد۔26مئی  (اے پی پی):ڈپٹی ڈائریکٹرمحکمہ زراعت توسیع فیصل آبادچوہدری خالد محمود نے کہا ہے کہ وزیراعظم کے زرعی ایمر جنسی پروگرام کے تحت بڑھوتری پیداوار کماد، دھان،گندم اوربڑھوتری پیداوار تل کے 4منصوبوں پر عمل جاری ہے جس کیلئے بھاری سبسڈی بھی فراہم کی جارہی ہے۔یہ بات انہوں نے ڈیرہ نمبردار مظہر اقبال85 ج ب مرکز ٹھیکریوالہ فیصل آبادپر بڑھوتری کماد سیمینار سے خطاب میں کے دوران کہی،جس میں کاشتکاروں کی بڑی تعداد شریک تھی۔انہوں نے کہا کہ کاشتکاروں کی خوشحالی کیلئے بھرپور اقدامات کئے جارہے ہیں تاکہ وہ زرعی اجناس کی پیداوار میں اضافہ ممکن بنا سکیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم زرعی ایمر جنسی پروگرام کے تحت چلنے والے منصوبوں پرلاکھوں روپے کی سبسڈی کاشتکاروں کو دی جا چکی ہے اور آنیوالے دنوں میں بھی دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے جس کی70فیصد آباد ی اس سے وابستہ ہے لہٰذا زراعت ترقی کرے گی تو ملک ترقی کرے گا اور پیداوار کو بہتر بنا کر ہی ملکی آبادی کی ترقی کو بہتر بنایا جا سکتا ہے جس کیلئے حکومت کاشتکاروں کے نمائشی پلاٹ لگوا رہی ہے اور ہم نے کماد کے 287نمائشی پلاٹ لگائے ہیں جس کیلئے 30ہزار  روپے کی سبسڈی دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ جب ان نمائشی پلاٹوں کے رزلٹ لئے گئے تو فی ایکڑ پیداوار 1200سے 1600من فی ایکڑ رہی اوریہ سب ٹیکنالوجی وزرعی ماہرین کے مشوروں سے ممکن ہوا اس لیے اگر کاشتکار محکمہ زراعت کی دی گئی ٹیکنالوجی اور زرعی ماہرین کی ہدایات پر عمل کریں توان کی پیداوار بھی بڑھ سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ کاشتکارکا چاہیے کہ وہ پیداوار بڑھائیں اور اپنے ملک کا درآمدی  بل کم کریں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا میں سب سے زیادہ چائے کی پتی درآمد  کرتا ہے لیکن دالیں اور تیلدار اجناس ہم ملک میں ہی پیدا کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پٹرول کے بعد سب سے بڑی درآمد  خوردنی تیل کی ہے لہٰذاجب آپ کی درآمدات  بڑھیں  گی تو ملکی سرمایہ بیرون ممالک  منتقل ہو جائے گا اور  ڈالرکی قیمت کے بڑھنے کی بڑی وجہ ہی یہ ہے کہ ہم زیادہ چیزیں در آمد کرتے ہیں جبکہ ہماری برآمدات بہت کم ہیں اس طرح ہم سب پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم مل کر ملکی ترقی میں  کردار ادا کریں۔انہوں نے کہا کہ  کماد کی فصل کے لیے محکمہ زراعت کی سفارش کردہ کھادوں  اور  زہروں کا استعمال کر کے  پیداوار میں اضافہ ہو سکتا ہے۔خالد محمود نے کہا کہ اس منصوبہ کے تحت ہم سبسڈی پر بہت سے زرعی آلات دے رہے ہیں جس میں سب سے بڑا زرعی آلہ شوگر کین پلانٹر ہے جس کی قیمت 11لاکھ ہے جو ہم سبسڈی پر ساڑھے 5لاکھ کا دے رہے ہیں جبکہ شوگر کین پلانٹر کے ساتھ صرف 2بندے ہوں گے اور باقی سارا کا م وہ خود کرے گا،اس میں زیادہ لیبر کی ضرورت نہیں ہو گی اور  شوگر کین پلانٹر ایک دن میں 10ایکڑ تک کماد لگا کر دے گااس طرح لیبر کے اخراجات کم ہوں گے اور اگاؤ بہت اچھا ہو گا۔انہوں نے کہا کہ انہوں نے اس منصوبہ کے تحت ڈجکوٹ میں 2کاشتکاروں کو شوگر کین پلانٹر دیئے ہیں جن کی پیداوار  اور اامدن میں اضافہ ہوا ،اس کے بعد اس منصوبے میں دوسرا ٓلہ چیز ر پلو ہے جن کو تین پھلوں والا ہل کہتے ہیں  جس کی قیمت  80ہزار روپے ہے جو ہم آپ کو آدھی قیمت پر دے رہے ہیں،اسی طرح ارلی ہل اپ رجرہے جس کے ذریعے آپ بیجائی بھی کر سکتے ہیں اور اس کے ذریعے آپ مٹی بھی چڑھا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس کے بعد گر ینیو لر پیسٹی سائیڈ ایپلی کیٹر ہے جس کے ذریعے کما دبڑا ہونے پر زہریں ڈال سکتے ہیں جو انسانی صحت کیلئے مضر ہے اوریہ 4زرعی آلات اس منصوبہ کے تحت دیئے جا رہے ہیں،اس کے ساتھ ساتھ ہم نمائشی پلاٹ بھی لگا رہے ہیں تاکہ کاشتکاروں کو ان آلات کے استعمال کی ترغیب اور رہنمائی دی جا سکے۔