وزیراعظم شہباز شریف کا تین روزہ دورہ ترکی ؛ ترک سرمایہ کاروں سے ملاقات میں تجارتی حجم 5 ارب ڈالر تک لے جانے کا عزم

10

اسلام آباد،02 جون (اے پی پی): وزیراعظم بننے کے بعد شہبازشریف نے   31 مئی   سے  02 جون   تک  ترکی کا  سرکاری  دورہ  کیا۔انقرہ ایئر پورٹ آمد پر وزیراعظم شہباز شریف اور ان کے وفد کا ترک وزیر دفاع اور اعلیٰ حکام نے پرتپاک استقبال کیا۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔دونوں ممالک رواں سال سفارتی تعلقات کے قیام کی 75 ویں سالگرہ منا رہے ہیں، وزیر اعظم کے ہمراہ وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وزیر اطلاعات  مریم اورنگزیب، وزیر سرمایہ کاری بورڈ چوہدری سالک حسین، معاونین خصوصی طارق فاطمی اور فہد حسین بھی موجود تھے ،ترکی میں پہلے سے موجود وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری بھی پاکستانی وفد کا حصہ بنے۔

وزیراعظم  نے  دورہ  ترکی   سے قبل اناطولیہ نیوز ایجنسی  کو خصوصی انٹرویو دیا  جس میں  انہوں نے   کہا کہ   پاکستان ،  ترکی کے ساتھ تجارت،  معیشت ، توانائی ، بنیادی ڈھانچے ،ای کامرس اور آئی ٹی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کاخواہاں ہے۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کاموجودہ تجارتی حجم حقیقی استعداد سے مطابقت نہیں رکھتا۔وزیراعظم نے کہا کہ  پاکستان اور ترکی  جموں و کشمیر اور شمالی قبرص  سمیت بنیادی قومی مفاد کے تمام  معاملات پر ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں۔

وزیر اعظم نے پاکستان ترکی بزنس کونسل سے بھی خطاب کیا۔انہوں نے کہا کہ  کاروباری برادری آئندہ 3 سال کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم 5 ارب ڈالر تک لے جانے کا عزم کرے۔

وزیراعظم نے یونین آف چیمبرز اینڈ کموڈٹی ایکسچینجز آف ترکی (ٹی او بی بی) کا دورہ بھی کیا اور ٹی او بی بی کے صدر رفعت حسارچِکولو کی طرف سے دیئے گئے  عشائیہ میں شرکت کی۔ وزیراعظم نے ترک سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولیات کی فراہمی کا یقین دلایا اور   کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان عشروں پر محیط قریبی، تاریخی، دوستانہ تعلقات ہیں۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ  پاکستان اور ترکی کے درمیان تجارتی حجم 1.1 ارب ڈالر ہے۔

دورے کے دوسرے روز وزیرِاعظم شہباز شریف سے ترک وزیر خارجہ میولیود چائوش اولو نے ملاقات کی،ملاقات میں پاکستان اور ترکی کی اعلیٰ قیادت شریک تھی جس میں دو طرفہ تعلقات کے مزید فروغ پر تبادلہ خیال ہوا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے مابین تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کے وسیع مواقع موجود ہیں،  خوشحال معاشرے کی تشکیل کے لئے افکار تازہ اور جدید مہارتوں کو بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔انہوں نےکہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان  کار سازی اور ٹیکسٹائل انڈسٹری کے شعبہ میں تعاون کے مواقع موجود ہیں، پاکستان میں ہائیڈل، تھرمل، کول، ونڈ اور سولر سمیت توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کے بہترین مواقع موجود ہیں۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف سے انقرہ میں ترک سرمایہ کاروں  نے  علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں ، جن میں  سیاہ قلم انجنیئرنگ ،  آرچیلک (Arçelik) ، زورلو انرجی ترکی ، البیراک (Albayrak) اور حیات کیمیا کمپنی کے وفود شامل ہیں ۔

دوران ملاقات  وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ افسوس اور دکھ کا مقام ہے کہ پاکستان میں سرمایہ کاری روکنے کی مزموم سازش کی گئی،  تمام سرمایہ کاروں کے مسائل کو حل کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔انہوں نےکہا کہ  گزشتہ حکومت نے پچھلی حکومتوں کے تمام منصوبے سیاسی دشمنی میں تباہ کئے۔وزیرِ اعظم نے متعلقہ حکام کو تمام مسائل کا حل  کرنے کی ہدایات جاری کیں۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے وفد کے ہمراہ مصطفیٰ کمال اتاترک کے مزار پر حاضری دی اور  مزار پر پھولوں کی چادر چڑھائی۔