اسلام آباد،3جون (اے پی پی): سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہاہے کہ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ آج نہ پٹرولیم مصنوعات پر لیوی ہے اور نہ سیلز ٹیکس ہے، قیمت خرید بھی پوری وصول نہیں کی جا رہی، حکومت پیٹرول کو قیمتِ خرید سے بھی کم پر فروخت کر رہی ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو یہاں وزیر مملکت برائے پٹرولیم ڈاکٹر مصدق ملک کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب میں کیا۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نہ بڑھاتے تو معیشت ڈوب جاتی، مشکل فیصلے نہ کرنا اس وقت ملک اور عوام سے ناانصافی ہوگی،۔انہوں نے کہا کہ دنیا کا کوئی ایسا ملک نہیں جو مہنگا پٹرول خرید کر سستا فروخت کرے، قرضے لے کر قیمتیں کم رکھی جائیں تو ملکی معیشت پر منفی اثرات پڑتے ہیں، حکومت پاکستان آج پٹرولیم مصنوعات پر ماہانہ رعایت دے رہی ہے،۔
سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ دنیا میں تیل کی قیمتیں تاریخی سطح پر ہیں، سالانہ 2500 ارب روپے کی سبسڈی برداشت نہیں کر سکتے، ہمارے دفاعی اخراجات 1700 ارب روپے ہیں جبکہ پوری حکومت 520 ارب روپے سے چلتی ہے، اس میں سے 30 سے 40 ارب روپے پٹرول کی مد میں خرچ ہوتے ہوں گے، انہیں کم کرنے کا معاملہ کابینہ کے سامنے رکھا جائے گا۔











