شفاف انتخابات کے لئے درست انتخابی فہرستوں کی تیاری پہلا اور اہم مرحلہ ہے؛ سیکرٹری الیکشن کمیشن عمر حمید خان کی پریس کانفرنس

13

اسلام آباد،6جون  (اے پی پی): سیکرٹری الیکشن کمیشن عمر حمید خان   نے کہا  ہے کہ شفاف انتخابات کے لئے درست انتخابی فہرستوں کی تیاری پہلا اور اہم مرحلہ ہے، غیر حتمی فہرستوں میں ترمیم کے بعد 12 اگست کو حتمی انتخابی فہرستیں شائع کر دی جائیں گی،ووٹرز کی کل تعداد 12 کروڑ ہے، فہرستوں کی تصحیح کے لئے عوام کے تعاون کی ضرورت ہے۔

 پیر کو الیکشن کمیشن میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری الیکشن کمیشن عمر حمید خان نے کہا کہ آزادانہ، شفاف اور منصفانہ انتخابات کیلئے درست و قابل اعتبار انتخابی فہرستیں ضروری ہیں،الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت صرف عارضی یا مستقل پتہ پر ووٹ درج کیا جا سکتا ہے،کسی تیسرے پتہ پر درج ووٹ اس مرتبہ عارضی یا مستقل پتہ پر درج کیے گئے ہیں،الیکشن کمیشن نے اکتوبر 2021 میں انتخابی فہرستوں پر نظر ثانی کا کام شروع کیا،گھر گھر جا کر تصدیقی عمل 7 نومبر سے 31 دسمبر تک مکمل کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ گھر گھر تصدیقی عمل کے دوران 9 کروڑ 84 لاکھ ووٹرز کی عارضی یا مستقل پتہ پر تصدیق ہوئی،اس دوران 40 لاکھ افراد کے فوت ہونے کی تصدیق ہوئی،اس دوران 9 لاکھ 50 ہزار لاکھ ووٹرز کی تصدیق نہیں ہوئی،جن کی تصدیق نہیں ہوئی انہیں مستقل پتہ پر رجسٹرڈ کر لیا گیا۔

سیکرٹری الیکشن کمیشن عمر حمید خان    نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے غیر حتمی انتخابی فہرستیں ڈسپلے سینٹرز پر آویزاں کر دی ہیں،انتخابی فہرستوں کی غیر حتمی فہرست میں 12 کروڑ 4 لاکھ 82 ہزار 302 ووٹرز رجسٹرڈ ہیں۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان ایک آزاد اور خود مختار آئینی ادارہ ہے جسے منصفانہ اور غیر جانبدارانہ انتخابات کے انعقاد کی ذمہ داری سونپی گئی ہے، آزادانہ، ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کرانے کیلئے درست، قابل اعتبار اور مستند انتخابی فہرستوں کی تیاری پہلا اور انتہائی اہم مرحلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی فہرستوں کی تیاری اور نظرثانی آئین پاکستان کے آرٹیکل 219، انتخابات ایکٹ مجریہ 2017ء اور انتخابی قواعد مجریہ 2017ء میں دیئے گئے طریقہ کار کے مطابق کی جاتی ہے۔ اس مقصد کے حصول کیلئے الیکشن کمیشن، صوبائی الیکشن کمشنر، ریجنل الیکشن کمشنر اور ضلعی الیکشن کمشنرز اپنے فرائض سرانجام دیتے ہیں۔

 سیکرٹری الیکشن کمیشن عمر حمید خان   نے کہا کہ انتخابی فہرستوں کی تکمیل کیلئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے افسران اور اہلکاران الیکشن کمیشن کی معاونت کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انتخابی فہرستوں کی میعادی نظرثانی کے طریقہ کار کے مطابق اسسٹنٹ رجسٹریشن آفیسرز، سپروائزرز اور تصدیق کنندگان کی تعیناتی کی گئی۔جن کی ذمہ داریوں میں ڈرافٹ انتخابی فہرست کی پرنٹنگ اور سپلائی،ڈرافٹ انتخابی فہرست کا گھر گھر تصدیقی عمل،غیر حتمی انتخابی فہرست عوام الناس کے معائنہ کیلئے آویزاں کرنا اور نئے نام کے اندراج یا ووٹر کی منتقلی کیلئے کسی بھی دوسرے ووٹر پر اعتراض یا کوائف کی درستگی کیلئے فارم کی وصولی شامل تھی۔ ان فارموں پر حاکم نظرثانی کی جانب سے فیصلہ جات جاری اورحتمی انتخابی فہرست شائع کرنا بھی ان کی ذمہ داریوں میں شامل تھا۔انہوں نے بتایا کہ انتخابات ایکٹ 2017ء اکتوبر 2017ء کو نافذ العمل ہوا جس کی دفعہ 27 کے مطابق ووٹ صرف ووٹر کے قومی شناختی کارڈ میں درج مستقل یا عارضی پتہ پر ہی درج ہو سکتا ہے تاہم اس وقت انتخابی فہرست میں موجود ایسے ووٹرز جو کسی تیسرے پتہ پر درج تھے ان کو دفعہ 27 کی ذیلی دفعہ  کے تحت 31 دسمبر 2018ء تک قانون تحفظ دیا گیا۔

سیکرٹری الیکشن کمیشن عمر حمید خان    نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے اس قانونی ضرورت کے پیش نظر انتخابی فہرستوں کی نظرثانی مہم 2019ء میں شروع کی جس کے تحت ایسے تمام افراد جو اپنے شناختی کارڈ کے تیسرے پتہ پر درج تھے، کو ان کے عارضی یا مستقل پتہ پر منتقل کیا اور غیر حتمی فہرستیں عوام کے معائنہ کیلئے ڈسپلے سنٹرز پر رکھ دی گئیں تاکہ ان میں موجود غلطیوں کی نشاندہی ہو سکے اور ان کو حاکم نظرثانی کے فیصلہ کے مطابق درست کیا جا سکے۔ حاکم نظرثانی کے فیصلہ جات کے مطابق ترمیم شدہ حتمی انتخابی فہرست 4 اکتوبر 2020ء کو شائع کر دی گئی۔انہوں نے کہا کہ  انتخابی فہرستوں میں ووٹرز کے غیر متعلقہ بلاکس اور فوت شدہ افراد کی انتخابی فہرست میں موجودگی کے حوالہ سے شکایات کو دور کرنے اور موجودہ انتخابی فہرست میں تمام اہل افراد کے ووٹ رجسٹر کرنے اور ووٹرز کو اپنے ووٹنگ کے کوائف کی درستگی کا موقع دینے کی غرض سے الیکشن کمیشن نے اکتوبر 2021ء میں الیکشنز ایکٹ 2017ء کی دفعہ 36 کے تحت ملک بھر میں انتخابی فہرستوں کی میعاد نظرثانی شروع کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ اگلے عام انتخابات کیلئے غلطیوں سے پاک اور ہر لحاظ سے درست انتخابی فہرست مہیا ہو سکے، اس مقصد کیلئے الیکشن کمیشن نے ملک بھر میں انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کیلئے88 ہزار 6سو سے زائد تعیناتیاں کیں۔