مگس بانی؛ شہد کے کاروبار سے وابستہ افراد کی مشکلات، حکومتی سرپرستی کا مطالبہ

24

چترال،14جون (اے پی پی):شہد میں قدرت نے  شفاء رکھی ہے  اس میں محتلف بیماریوں کا علاج بھی ہے مگر شہد شفاء کے ساتھ ساتھ ایک بہترین  صحت مند غذا بھی ہے جسے اکثر لوگ  ناشتے میں  خاص طور پر استعمال کرتے ہیں۔  چترال اور اس کے پڑوسی اضلاع غذر، ہنزہ وغیرہ  کی آب و ہوا اور یہاں کے پھول شہد کی مکھیوں کی پسندیدہ خوراک ہیں۔ شہد کی مکھیاں ان پھولوں سے رس چھوس کر اس سے شہد بناتی ہیں۔

شہد کی مکھیاں جنگلوں میں تو درختوں میں اپنا گھر یعنی چھتے بناتی ہیں  مگر مگس بانی کے کاروبار کرنے والے لوگ انہیں لکڑی کی  صندو ق نما پیٹیوں میں بھی پالتے ہیں۔ان میں سے ہر پیٹی میں  ایک ملکہ ہوتی ہے جو مکھیوں کی پوری نظام کو قابو کرتی ہے اور کسی بھی مکھی کو گند اندر لانے کی اجازت نہیں دیتی۔یہ ملکہ انڈے بھی دیتی ہے جس سے ان کی نسل بڑھتی ہے۔

مگس بانی کرنے والے حضرات کا کہنا ہے کہ ایک خاص عرصے کے بعد ان چھتوں سے مشین کے ذریعے شہد نکالی جاتی ہے۔ یہ کاروباری حضرات گوناگوں مشکلات سے دوچار ہیں ان کا کہنا ہے کہ کبھی ہمیں پولیس تنگ کرتے ہے تو کبھی انتظامیہ این او سی لانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

شہد  کے کاروبار سے وابستہ  لوگوں کا کہنا ہے کہ  اگر حکومت ان کے ساتھ تعاون کرے  تو وہ نہ صرف ملک کے کونے کونے میں  غذائیت سے بھر پور یہ میٹھی شہد فراہم کرسکتے ہیں بلکہ بیرون ممالک میں بھی برآمد کرکے اس کے ذریعے ذر مبادلہ کماسکتے ہیں۔

شہد کے اس پاکیزہ اور صحت مند  صنعت کو  اگر ترقی دی جائے تو اس  سے یقینی طور پر ملک سے بے روزگاری اور غربت کا کافی حد تک خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔