لاہور، 17 جولائی (اے پی پی ): پنجاب میں ضمنی انتخابات کے موقع پر لاہور کے 4حلقوں میں ووٹنگ صبح 8بجے شروع ہو گئی ہے جو بغیر وقفہ کے شام 5بجے تک جاری رہے گی۔اس سلسلے میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں۔ لاہور میں رینجرز اور پاک فوج کے جوان حساس پولنگ سٹیشنز پر ڈیوٹی پر موجود ہیں، ریٹرننگ اور پریذائیڈنگ افسروں کو مجسٹریٹ کے اختیارات تفویض کئے گئے ہیں۔
لاہور میں صوبائی اسمبلی کی چار نشستوں پر کل 7لاکھ 22ہزار878ووٹرز حق رائے دہی استعمال کریں گے۔چار نشستوں پر مرد ووٹرز کی تعداد 3لاکھ82ہزار928ہے جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد 3لاکھ39ہزار950 ہے ۔لاہور میں ضمنی انتخابات کیلئے کل 466پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں،لاہور کے تمام پولنگ اسٹیشنز کو حساس قرار دیا گیا ہے جبکہ 122پولنگ اسٹیشنز کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔انتخابات کے موقع پر شہر میں دفعہ 144کا نفاذ ہے اور کسی بھی نا خوشگوار واقعہ سے نمٹنے کیلئے قانون نافذکرنے والے موجود ہیں۔
صوبائی دارالحکومت لاہور کے چار حلقوں میں مسلم لیگ ن کے امیدواروں کا جوڑ پاکستان تحریک انصاف کے امیدواروں سے ہے۔ چاروں حلقوں میں پی ٹی آئی نے فتح حاصل کی تھی، تاہم حمزہ شہباز کو ووٹ دینے کی پاداش میں تمام امیدوار ڈی سیٹ ہو گئے ہیں۔
پی پی 158 میں مسلم لیگ ن کے امیدوار رانا احسن شرافت کا مقابلہ پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما محمود الرشید کے داماد میاں اکرم عثمان سے ہے۔اس سے قبل 2013 کے عام انتخابات میں میاں اکرم عثمان نے اس وقت کے حلقہ پی پی 149 سے پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لیا تھا تاہم وہ ن لیگ کے امیدوار رانا مشہود کے ہاتھوں شکست کھا گئے تھے۔2018 کے جنرل الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار عبد العلیم خان نے ن لیگ کے امیدوار رانا احسن شرافت کو شکست دی تھی، علیم خان ڈی سیٹ ہوئے تو انہوں نے دوبارہ الیکشن لڑنے سے معذرت کر لی جس کے بعد مسلم لیگ نے دوبارہ ٹکٹ رانا احسن شرافت کو دیا۔
پی پی 167 میں پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار نذیر چوہان کا مقابلہ چودھری شبیر گجر سے ہے۔2018 کے جنرل الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار نذیر چوہان نے ن لیگ کے امیدوار میاں محمد سلیم کو زیر کیا تھا۔پی پی 168 میں پاکستان مسلم لیگ ن کے ملک اسد کھوکھر کو ٹکٹ دیا، جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار ملک نواز اعوان میدان میں ہیں۔2018 کے جنرل الیکشن میں خواجہ سعد رفیق فاتح قرار پائے تھے، انہوں نے پی ٹی آئی کے امیدوار فیاض بھٹی کو شکست دی تھی، تاہم خواجہ سعد رفیق کی جانب سے ایم این اے منتخب ہونے کے بعد یہ سیٹ چھوڑی، اس حلقے میں الیکشن کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار ملک اسد کھوکھر نے فتح حاصل کی تھی۔ جو اب پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار کے طور پر میدان میں ہیں۔پی پی 170 میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان کے قریبی دوست عون چودھری کے بھائی محمد ذوالقرنین کا مقابلہ پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار ظہیر عباس کھوکھر سے ہے۔2018 کے جنرل الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ پر حصہ لینے والے عون چودھری کے بھائی محمد ذوالقرنین نے ن لیگ کے عمران جاوید کو ہرایا تھا۔











