قومی اسمبلی نے قومی احتساب (ترمیم دوئم) سمیت دو بلوں کی منظوری دے دی

9

اسلام آباد،3اگست  (اے پی پی):قومی اسمبلی نے قومی احتساب (ترمیم دوئم) سمیت دو بلوں کی منظوری دے دی۔ بدھ کو وزیر مملکت برائے قانون سینیٹر شہادت اعوان نے قومی احتساب آرڈیننس 1999ء میں مزید ترمیم کرنے کا بل قومی احتساب (ترمیم دوم) بل 2022ء زیر غور لانے کے لئے مذکورہ قواعد کے قاعدہ 123 کے ذیلی قاعدہ 2 کی مقتضیات سے صرف نظر کئے جانے کی تحریک پیش کی جس کی منظوری کے بعد انہوں نے تحریک پیش کی کہ قومی احتساب ترمیم دوم 2022ء قائمہ کمیٹی کی رپورٹ کردہ صورت میں فی الفور زیر غور لایا جائے، اس تحریک کی منظوری کے بعد بل کی شق وار منظوری کے دوران علیحدہ فہرست میں درج ترامیم پیش کی گئیں۔

قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے چیئرمین محمود بشیر ورک نے اشاعت قوانین پاکستان ایکٹ 2016ء میں ترمیم کرنے کے بل اشاعت قوانین پاکستان (ترمیمی) بل 2022ء پر قائمہ کمیٹی کی رپورٹ پیش کی۔ وزیر مملکت برائے قانون شہادت اعوان نے بل فی الفور زیر غور لانے کی تحریک پیش کی جس کی منظوری کے بعد سپیکر نے شق وار منظوری لی۔ مولانا عبدالاکبر چترالی نے کہا کہ وقفہ سوالات ہمارا حق تھا، یہاں قانون سازی ہو رہی ہے، وزرا  ایوان میں موجود نہیں ہیں۔ قانون سازی پاکستان کے لئے ہوتی ہے اس ایوان میں ممبران موجود نہیں۔  شق وار منظوری کے بعد شہادت اعوان نے اشاعت قوانین پاکستان (ترمیمی) بل 2022ء منظوری کے لئے پیش کیا جس کی ایوان نے منظوری دے دی۔

اجلاس سے  خطاب میں  وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ بالادست ادارہ ہے، اس کی کسی کمیٹی میں کسی ادارے کے سربراہ کو طلب کیا جائے تو اسے پیش ہونا چاہیے، اس ادارے کو مضبوط بنانا حکومت، اپوزیشن سمیت سب کی ذمہ داری ہے، خیبرپختونخوا میں احتساب کا ادارہ بند کردیا گیا، باقی تینوں صوبوں اور وفاق میں احتساب ہوتا رہا، گزشتہ روز اپنے آپ کو آئین اور قانون کے تحت ملک چلانے کے دعویدار کو جھوٹے بیان حلفی جمع کرانے پر آئینی ادارے نے بے نقاب کردیا،  دیگر اداروں کے   عہدیدار پبلک اکائونٹس کمیٹی میں پیش ہو سکتے ہیں تو نیب کے ادارے کا احتساب کیوں نہیں ہو سکتا،یہ سلسلہ ملک کے وجود کے لئے تشویشناک ہے۔

قومی اسمبلی میں نکتہ اعتراض پر پیپلز پارٹی کے رکن عبدالقادر مندوخیل نے کہا ہے کہ جعلی حلف نامے پر اگر فیصل واوڈا کو نااہل قرار دیا جاسکتا ہے تو عمران خان کے خلاف بھی کارروائی کی جائے۔   انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس میں 231  ممنوعہ فنڈنگز کے ثبوت ملے ہیں، فارن فنڈنگ اور غیر ملکی فنڈنگ میں فرق بھارت اور انڈیا ہی کی طرح کا ہے۔ دنیا سے فنڈنگ کا کوئی جواب نہیں، اپنے ملازموں کے اکائونٹ میں پیسے ڈالنے کا کوئی جواب دیا، جھوٹے حلف نامہ دیئے گئے۔

سپیکر قومی اسمبلی پرویز اشرف نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی میں گیارہ سے 14 اگست تک جشن آزادی کی تقریبات منعقد کی جائیں جس میں موجودہ اور سابق ارکان سمیت اہم شخصیات کو مدعو کیا جائے گا۔   انہوں نے ایوان کو آگاہ کیا کہ جشن آزادی کی چار روزہ تقریبات کے لئے قومی اسمبلی کا اجلاس 10 اگست کی سہ پہر 4 بجے تک ملتوی کیا جاتا ہے۔