کوئٹہ، 14 اگست (اے پی پی ): ملک بھر کی طرح بلوچستان میں بھی 75 واں یوم آزادی روایتی جوش و جذبے سے منایا جاررہا ہے، بلوچستان میں یوم آزادی کی تقریبات کا آغاز صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں 21 توپوں کی سلامی سے ہوا، کوئٹہ گریژن سمیت صوبے بھر میں نماز فجر کے بعد ملک کی ترقی، سلامتی یکجہتی، امت مسلمہ کے اتحاد اور کشمیریوں کی دیرینہ جدوجہد میں کامیابی کیلئے خصوصی دعائیں کی گئیں۔
بلوچستان میں یوم آزادی کی سب سے بڑی تقریب کوئٹہ میں صوبائی اسمبلی کے سبزہ زار پر منعقد ہوئی جہاں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے قومی پرچم لہرا کر تقاریب کا آغاز کیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ بلوچستان بارشوں اور سیلاب کے باعث آج ایک امتحان اور کڑے وقت سے گزر رہا ہے، وفاقی اور صوبائی حکومتیں اشتراکی حکمت عملی کے تحت متاثرین کی مدد و بحالی کے لئے تمام تر وسائل بروئے کار لاررہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف کے شکر گزار ہیں جنہوں نے مشکل کی اس گھڑی میں بلوچستان پر خصوصی توجہ مرکوز کررکھی ہے اور متاثرین کی امداد و بحالی سے متعلق ہم نے جو بھی مطالبہ کیا ہے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے سیلابی سرگرمیوں کے دوران ہیلی کاپٹر حادثے میں شہادت پانے والے کور کمانڈر کوئٹہ لیفٹینٹ جنرل سرفراز علی سمیت فوجی افسران و جوانوں کی خدمات کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی عظیم انسانی خدمات کو تادیر یاد رکھا جائے گا اور ان کی خدمات تاریخ میں سنہری حروف میں لکھی جائیں گی ۔
انہوں نے کہا کہ ہم سب سے بات چیت کے لیے تیار ہیں تاہم دہشت گردی اور سیکورٹی پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے ۔ اس کے علاوہ مسنگ پرسنز کا مسئلہ ہر فورم پر اٹھائیں گے تاہم سیکورٹی فورسز کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈا قابل قبول نہیں ۔ظہیر بلوچ کے معاملے پر جس طرح بے بنیاد پروپیگنڈا کیا گیا، ایسے ہتھکنڈوں سے گریز کرنا ہوگا ۔











