کوئٹہ 14 آگست ( اے پی پی ): قائمقام گورنر بلوچستان میر جان محمد جمالی نے پوری قوم کو چشن آزادی پاکستان کی 75 ویں سالگرہ کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ 14 آگست وہ تاریخی دن ہے جب پچھتر برس قبل پاکستان ایک آزاد اور خودمختار ریاست کی حیثیت سے معروض وجود میں آیا تھا. یہ مسلم ممالک میں واحد نیوکلیئر پاور ہے جس کی وجہ سے اس کا دفاع ناقابل تسخیر بن چکا ہے.
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے روشن مستقبل کا ضامن بلوچستان ہے لہٰذا وفاقی حکومت کو بھی صوبہ بلوچستان اور اس کے عوام کی ترقی و خوشحالی کیلئے بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا.
ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنر ہاوس کوئٹہ میں جشن آزادی کی 75 ویں سالگرہ کی مناسبت سے ایک پروقار تقریب کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
اس موقع پر قائمقام گورنر بلوچستان میر جان محمد جمالی نے کہا کہ ہمیں آزادی بزرگوں کی طویل جدوجہد اور بےشمار قربانیوں کے بعد ملی ہے. اب یہ نوجوان نسل کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی قومی آزادی کو قائم و دائم رکھیں۔
قائمقام گورنر بلوچستان نے کہا کہ آج ہمیں اس اہم دن کو اپنے آپ کا محاسبہ کرن چاہیے کہ ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا. قائمقام گورنر بلوچستان میر جان محمد جمالی نے کہا کہ بلوچستان میں آباد اقوام شاندار اقدار و روایات کے آمین ہیں جن کے مثبت اور تعمیری ہماری سیاسی زندگی پر بھی واضح ہیں.
انہوں نے کہا کہ طے شدہ ہے کہ پاکستان کا روشن مسقبل بلوچستان سے وابستہ ہے. وفاق کی ایک اکائی کی حیثیت سے بلوچستان کو کسی صورت نظر انداز نہیں کرنا چاہیے. تقریب کے دوران کمانڈر 12 کور لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی، ان کے ساتھیوں سمیت حالیہ سیلابوں میں شہید ہونے والے افراد کیلئے خصوصی دعا بھی کی. چشن آزادی پاکستان کی 75 ویں سالگرہ کی مناسبت سے تقریب کے شرکاءسے یونیورسٹی آف بلوچستان کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شفیق الرحمٰن، وویمن یونیورسٹی کی وائس چانسلر ڈاکٹر ساجدہ نورین اور ڈاکٹر عطاءالرحمان نے بھی خطاب کیا۔
قبل ازیں قائمقام گورنر بلوچستان میر جان محمد جمالی نے یوم آزادی پاکستان کے موقع پر پرچم کشائی کی۔
اس موقع پر چیف سیکرٹری بلوچستان عبدالعزیز عقیلی، انسپک?ر جنرل بلوچستان عبدالخالق شیخ، یونیورسٹی آف بلوچستان کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شفیق الرحمٰن، وویمن یونیورسٹی کی وائس چانسلر ڈاکٹر ساجدہ نورین، ڈاکٹر عطاءالرحمان، اعلی سرکاری افسرز، اساتذہ اکرام، اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد سمیت یونیورسٹیوں کے طلباءو طالبات کی ایک بڑی تعداد شریک تھی۔











