سینیٹ کی کمیٹی برائے فیڈرل ایجوکیشن اینڈ پروفیشنل ٹریننگ نے”دی گلوبل انسٹی ٹیوٹ بل 2022″کی منظوری دیدی

26

اسلام آباد،22اگست (اے پی پی):سینیٹ کی کمیٹی برائے فیڈرل ایجوکیشن اینڈ پروفیشنل ٹریننگ نے سینیٹر شہادت اعوان کی جانب سے پیش کردہ “دی گلوبل انسٹی ٹیوٹ بل 2022” کو متفقہ طور پر منظور کر لیا۔

  سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے فیڈرل ایجوکیشن اینڈ پروفیشنل ٹریننگ کا اجلاس سینیٹر عرفان صدیقی کی زیر صدارت پیر کو پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ بل پر گزشتہ برسوں کے دوران تندہی سے کام کیا گیا ہے اور اسے تعلیمی شعبے کے مفاد میں متفقہ طور پر منظور کیا گیا ہے۔ کمیٹی نے “دی پاکستان گلوبل انسٹی ٹیوٹ بل 2022” کے عنوان سے بل پر غور کیا جو سینیٹ میں وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت رانا تنویر حسین کی جانب سے سینیٹر شہادت اعوان نے پیش کیا تھا۔  پینل نے یونیورسٹی کے لئے مختص سائٹ کا دورہ کرنے اور اس کے فریم ورک اور پیشرفت کا جائزہ لینے کا بھی ارادہ کیا۔

 چیئرمین ایچ ای سی نے کہا کہ یہ نجی شعبے میں ڈگری ایوارڈنگ انسٹی ٹیوٹ (ڈی اے آئی ) ہوگا۔  مجوزہ ڈی اے آئی کی سپانسرنگ باڈی ٹی ایچ ایم سی ایجوکیشن سسٹم (پرائیویٹ) لمیٹڈ ہے جو کمپنیز آرڈیننس 1984 کے سیکشن 32 کے تحت رجسٹرڈ ہے جس کا کارپوریٹ یونیورسل شناخت نمبر 009133  یکم  جنوری 2015 ہے۔  پاکستان کے تعلیمی شعبے میں جنوبی کوریا سے براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کا مقصد پاکستان اور جنوبی کوریا کے درمیان روابط کو مزید مضبوط بنانا، پاکستان میں تعلیم کے معیار کو بہتر بنانا اور پاکستانی نوجوانوں کو تحقیق کے مواقع فراہم کرنا ،مینجمنٹ، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں میں ترقی لانا ہے۔

 انہوں نے بتایا کہ ادارہ ابتدائی طور پر فیکلٹی آف بزنس مینجمنٹ اور فیکلٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی میں تعلیمی آپریشن شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ سینیٹر عرفان صدیقی نے اس بات پر زور دیا کہ چیئرمین ایچ ای سی اپنے اختیارات نیک جذبے اور ایمان کے ساتھ استعمال کرتے ہیں اور تعلیمی شعبے کو بااختیار بنانے کیلئے کوشاں ہیں۔  چیئرمین کمیٹی نے انسٹی ٹیوٹ کے مالیاتی ماڈل کا جائزہ لینے کے لئے ایچ ای سی کے مالیات اور فنڈز کے حوالے سے ایک خصوصی اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا۔

  اجلاس میں سینیٹرز فوزیہ ارشد، جام مہتاب حسین ڈہر، مولوی فیض محمد اور سینیٹر فلک ناز چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر مختار احمد، ڈی جی ایچ ای سی اور دیگر حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔