جامشورو، 30 اگست (اے پی پی):جامعہ سندھ جامشورو کی جانب سے سیلاب متاثرن کی امداد اور حکومتی کوششوں میں ہاتھ بٹانے کیلئے جامشورو و حیدرآباد سمیت آٹھوں کیمپسز میں ریلیف کیمپسز قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ، اورسندھ یونیورسٹی المنائی ایسوسی ایشن کی ڈائریکٹر شپ کیلئے ڈاکٹر طارق حسن عمرانی کو نامزد کرتے ہوئے انہیں اندرون و بیرون ممالک میں مقیم گریجویٹس سے برسات متاثرین کی معاونت و امداد کیلئے فنڈز اکٹھے کرنے کا ٹاسک دیا گیا ہے۔
جامعہ سندھ کے کل 31 اگست کو کھلتے ہی سیلاب کی وجہ سے مزید متاثر ہونے والے ہاسٹلر طلبہ و طالبات کی رجسٹریشن کرکے ان کی خوراک کا بندوبست کرنے اور ڈھائی ہزار اہل طلبہ و طالبات میں سے بینک اکاﺅنٹ ہولڈڑز کو ایک روز کے اندر اسکالرشپ کی رقم منتقل کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ سیلاب متاثرین کی بحالی اور مستقبل میں قدرتی آفات سے محفوظ رہنے کیلئے حکومت کو جلد ایڈوائیزری بھیجنے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔
یہ فیصلے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر محمد صدیق کلہوڑو کی زیر صدارت منعقد کیے گئے مختلف کیمپسز کے پرو وائس چانسلر، فوکل پرسنز، فیکلٹیز کے ڈینز اور تمام تدریسی و انتظامی شعبوں کے سربراہوں کے مشترکہ اجلاس میں کیے گئے۔ اجلاس میں سیلاب زدگان کی امداد کیلئے کیمپوں کی جگہ اور جمع ہونے والی رقم و سامان کی شفاف تقسیم سے متعلق طریقہ کار طے کیا گیا، جس کے تحت ڈائریکٹر فنانس ذیشن میمن کو ایک علیحدہ اکاﺅنٹ مختص کرنے کی ہدایت کی گئی، جس میں اندرون ملک و بیرون ممالک سے مخیر حضرات اپنا چندہ جمع کرا سکیں گے۔
جامشورو میں جامعہ سندھ کی جانب سے امدادی کیمپ سندھیالوجی کے مرکزی دروازے پر لگائی جائے گی، جس کی نگرانی ڈینز کریں گے، تاہم امدادی کیمپ کیلئے قائم کی گئی کمیٹی کے کنوینر ڈاکٹر نیک محمد شیخ ہونگے۔
ایلسا قاضی کیمپس حیدرآباد میں قائم ہونے والی کیمپ کے کنوینر احسان شاہ راشدی ہونگے۔ اس کے علاوہ ٹھٹھہ، دادو، میرپورخاص، نوشہروفیرزو، بدین و لاڑکانہ کیمپسز میں بھی کل 31 اگست سے امدادی کیمپیں قائم ہو جائیں گی، جن کی نگرانی متعلقہ کیمپسز کے پی وی سیز و فوکل پرسنز کریں گے۔
اجلاس میں شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر محمد صدیق کلہوڑو نے حکومتی اعلان کے تحت رضاکارانہ طور پر اپنی پانچ دن کی تنخواہ سیلاب متاثرین کیلئے جامعہ سندھ کے قائم ہونے والے فنڈ میں دینے اور ڈین فیکلٹی آف انجیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی پروفیسر ڈاکٹر خلیل الرحمان کھمباٹی نے سب سے پہلے 25 ہزار روپے چندہ دینے کا اعلان کیا۔
جامعہ کی مالی حالات ناخوشگوار ہونے کے باعث شیخ الجامعہ نے ہر قسم کی ایڈوانس رقم، قرضے وغیرہ اور دیگر بلز کی ادائیگی پر پابندی عائد کرنے کا بھی اعلان کیا۔ وائس چانسلر نے کہا کہ وفاقی حکومت کے ایک محکمے کی جانب سے کھیلوں کا سامان فراہم کیا گیا ہے، جوکہ بوائز و گرلز ہاسٹلز کے طلبہ و طالبات کے سپرد کیا جائے گا تاکہ وہ کھیلوں کے ذریعے ذہنی طور پر چست رہیں اور سیلاب و بارشوں کے اثرات کو بھلا سکیں۔
اجلاس میں شیخ الجامعہ سندھ کے علاوہ پرو وائس چانسلرز، فوکل پرسنز، ڈینز اور مختلف تدریسی و تعلیمی سربراہان نے مخیر حضرات اوراندرون ملک و بیرون ممالک میں مقیم سندھ یونیورسٹی کے تمام المنائی اور اپنے سابق طلبہ و طالبات کو سیلاب زدگان کی امداد کیلئے بھرپور چندہ دینے کی اپیل کی ہے۔











