حیدرآباد 31 اگست (اے پی پی)- صوبائی وزیر اطلاعات ، ٹرانسپورٹ اور ماس ٹرانزٹ اور حالیہ بارشوں/سیلاب سے متعلق حیدرآباد کے لیے مقرر کردہ فوکل پرسن شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ گذشتہ تین چار روز سے وسائل کی کمی پیش آ رہی تھی ۔ جن کو مل کر حل کرنے کے لیے صوبائی وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ کو خصوصی طور پر دعوت دے کر حیدرآباد بلایا گیا تاکہ حیدرآباد میں بارشوں سے پیدا ہونے والی صورتحال کو مل کر حل کیا جاسکے ۔ وہ آج شہباز ہال حیدرآباد میں صوبائی وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ کے ہمراہ برسات کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مطلوبہ وسائل کی کمی کوپورا کرنے کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کر رہے تھے ۔ اجلاس میں ایم پی اے جبار خان ، ایم کیو ایم حیدرآباد سے منتخب ایم پی اےز ندیم صدیقی اور ایڈووکیٹ ناصر قریشی پی پی پی کے عاجز دھامرا، سیکریٹری بلدیات سید نجم شاہ ، ڈپٹی کمشنر حیدرآباد فواد غفار سومرو کے علاوہ مختلف محکموں کے افسران نے شرکت کی ۔ اجلاس میں صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ تعلقہ دیہی کے 80 فیصد علاقے زیر آب ہیں جبکہ حیدرآباد کے شہری علاقوں سے برساتی پانی نکاسی کر دی گئی ہے جبکہ حیدرآباد تعلقہ دیہی کی صورتحال خراب ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد میں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ نے اپنا کام شروع کر دیا ہے جس کی وجہ سے شہر کی صورتحال میں بہتری آئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایچ ایم سی کا کام شہر کا کچرا ایک مقام پر جمع کرنا ہے جبکہ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کا کام شہر سے کچرے کو اٹھا کر مقررہ مقام پر منتقل کرنا ہے انہوں نے کہا کہ ایچ ایم سی کو گھوسٹ ملازمین کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی گئی جس پر ایچ ایم سی کے ایڈمنسٹریٹر نے 48 خاکروبوں کو ملازمت سے برطرف کیا ہے ۔ اور کئی کو شوکاز نوٹس دیا ہے صوبائی وزیر نے کہا کہ ان برساتوں میں تمام اداروں نے ایک دوسرے تعاون کیا ہے ۔جس کی وجہ سے صورتحال بہتر ہوئی ہے ۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ آٹو بھان روڈ پر واقع بالیورڈمال کے قریب نالے پر قائم تجاوزات کا خاتمہ کیاکیا ہے جسے لطیف آباد نمبر 4 اور 12 کے لوگوں نے بہت سراہا ۔ اس موقع پر صوبائی وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ نے اجلاس میں کہا کہ چیرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر وزیر اعلیٰ سندھ حیدرآباد پہنچے جبکہ وہ خود بھی کئی باربارشوں کے دوران حیدرآباد کا دورہ کر چکے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد کے تمام ترقیاتی اسکیموں کے لیے فنڈز مختص کیے گئے ہیں اور صرف دو ماہ کے لیے ڈی سیز کو ایڈمنسٹریٹرکے چارج دیے گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ بارشوں کی صورتحال کے پیش نظر کیا گیا ہے تاکہ محکموں کے درمیان رابطوں کو بہتر کیا جاسکے ۔ اجلاس میں سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ حیدرآباد ایک تاریخی اور صوبے کا دوسرا بڑا شہر ہے جس کی اپنی ایک بڑی اہمیت ہے انہوں نے کہا کہ حیدرآباد کی ترقی کے لیے خصوصی پیکیج کے سلسلے میں وزیر اعلیٰ سے بات کی ہے جبکہ رواںمالی سال بھی حیدرآباد کے لیے کئی ترقیاتی اسکیمیں مختص کی گئی ہیں ۔ اسکیموں کی جانچ پڑتال کے متعلق انہوں نے کہا کہ ترقیاتی اسکیمیں بڑی مشکل سے منظور ہوتی ہیں اس میں رکاوٹ بننے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی ۔ انہوں نے ڈی سی حیدرآباد کو ہدایت کی کہ حیدرآباد شہر سے غیر قانونی تجاوزات کو ہٹانے سمیت غیر قانونی شادی ہالز کے خلاف بھی کارروائی کی جائے ۔ صوبائی وزیر نے برساتوں کے متعلق کہا کہ یہ قدرتی آفت ہے جبکہ واضح رہے کہ اس سال کئی گنا ہ شدید زیادہ بارشیں ہوئی ہیں جس سے پورا صوبہ متاثر ہوا ہے جبکہ حیدرآباد کی ضروریات کے پیش نظر واسا کو 10 کروڑ روپے جاری کیے گئے ہیں انہوں نے مزید کہا کہ چیرمین بلاول بھٹو زرداری اپنا یورپ کا دورہ ملتوی کر کے برساتی صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں اور ان کی ہدایت پر صوبائی وزراء، ایم این ایز ، ایم پی ایز برسات کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال اور متاثرین کی دیکھ بحال کے لیے اپنے اپنے اضلاع میں موجود ہیں انہوںنے کہا کہ جب تک صورتحال بہتر نہیں ہوتی اس وقت تک کوئی بھی مشینری واپس نہیں جائے گی اور ضرورت پڑنے پر مزید فراہم کی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں مختلف مقامات پر ٹینٹ سٹی قائم کئے جارہے ہیں۔











