مکان پر اپنی ساری زندگی کی جمع پونجی لگادی، مکان کو بنانے پر چالیس سال لگائے اور بدقسمتی سے میں اس میں چالیس دن بھی نہ رہ سکا

31

کوئٹہ، 02 ستمبر (اے پی پی):حالیہ دونوں میں ہونے والی شدید بارشوں کے باعث آنے والے سیلاب نے جہاں ملک بھر میں ایک بڑی تباہی مچائی وہی کوئٹہ میں تیس گھنٹوں تک جاری رہنی والی بارش سے آنے والے سیلاب سے کوئٹہ بھی شدید متاثر ہوا ۔ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق بلوچستان میں یکم جون سے اب تک جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 250 ہوگئی ہے جن میں 117 مرد 60 خواتین اور 73 بچے شامل ہیں، سب سے زیادہ اموات کوئٹہ میں ہوئیں جہاں 27 افراد جاں بحق ہوئےجبکہ سیلابی ریلوں اور بارشوں کے باعث مجموعی طور پر بلوچستان میں 61 ہزار 718 مکانات کو نقصان پہنچا، ایک لاکھ 45 ہزار 936 سے زائد مال مویشی سیلابی ریلوں کی نذر ہوگئے ہیں حالیہ سیلاب سے سب سے زیادہ کوئٹہ کے علاقے ہنہ اوڑک نواں کلی چشمہ اچوزئی سمیت دیگر علاقے شدید متاثر ہوئے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی سڑکیں پل سمیت رہائشی مکانات مکمل طور پر تباہ ہو گئے-سیلاب سے متاثرہ نواں کلی کے رہائشی محمد اشفاق نے اے پی پی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ میں ایجوکیشن محکمہ میں سرکاری ملازم رہا چکا ہو میں نے چالیس سال سروس کی اور ریٹائرڈمنٹ کے بعد میں نے یہ گھر بنایا اور اس مکان پر اپنی ساری زندگی کی جمع پونجی اس مکان پر لگادی میں نے اس مکان کو بنانے پر چالیس سال لگائے اور بدقسمتی سے میں اس میں چالیس دن بھی نہ رہے سکا ظالموں نے ندی کے اوپر ہی اسکیم بنائی اور مجھ پر بھیچ دی میرا اس مکان کے اوپر ایک کروڑ سے زائد کا خرچہ آیا محمد اشفاق احمد نے کہا کہ صبح فجر کے وقت پانی آیا میں اس مکان سے کچھ بھی نہ نکال سکا صرف اپنے گھر والوں کو ہی نکال سکا ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے سارا مکان زمین بوس ہوگیا میرا سب کچھ ختم ہوگیا اب ہمارے پاس کچھ بھی نہیں رہا ہم اب اپنے رشتےداروں کے گھر میں رہے رہیں ہے ہماری جو چھت تھی وہ آنے والے سیلاب کی نظر ہوگئی میری صوبائی اور وفاقی حکومت سے درخواست ہے کہ ہماری مدد کی جائے- ایک اور متاثرہ خاتون نے کہا کہ میری ساری زندگی کی جمع جمع پونجی تھی آنے والے سیلاب سے ہمارا گھر سیلاب سے مکمل تباہ ہوگیا متاثرہ خاتون نے کہا کہ میں نے ساری زندگی ایک ایک روپیہ جمع کرکہ یہ گھر بنایا نا اچھا کھایا نا اچھا پہنا اور اپنے بچوں کو بھی اچھا نہیں کھلایا بس یہی خواہش تھی کہ اپنا گھر بن جائے میں نے اپنی 28 سال کی ڈیوٹی اس گھر پر لگادی اس وقت اس گھر کی صرف پانی کی ٹینکی ہی بچی ہے اور کچھ بھی نہیں بچا پورے کا پورا گھر سیلاب میں بہہ گیا ہم نے اس وقت جو کپڑے پہن رکھے ہے صرف ہمارے پاس یہی ہے اور سب کچھ پانی میں بہہ گیا ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے پورا گھر کاغذ کی طرح پانی میں چلا گیا متاثرہ خاتون نے کہا کہ ہماری وفاقی اور صوبائی حکومت سے درخواست کرتی ہو کہ ہماری مدد کی جائے کہ ہمیں رہنے کے لئے چھت مل سکے۔