سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے ترکیہ نے 15 طیاروں، 13 ریل گاڑیوں کے ذریعے 35 ہزار خیمے، 4 لاکھ 67 ہزار غذائی اشیاء، 53 ہزار 466 کمبل پاکستان پہنچائے؛ترکیہ سفیر مہمت پاچاجی

19

اسلام آباد، 19 اکتوبر (اے پی پی ): سیلاب متاثرین  کی مدد کیلئے  ترکیہ کی حکومت اور عوام نے پاکستان اور پاکستانیوں کی مدد میں زرہ برابر دیر نہیں لگائی، سیلاب کے فوراً بعد ترکیہ کا آفات سے نمٹنے والا ادارہ “آفاد” اور ترکیہ ہلال احمر یہاں پہنچا، ترکیہ نے 15 طیارے، 13 ریل گاڑیاں بھیجیں جن  کے  ذریعے  سیلاب متاثرین کے لیے 35 ہزار خیمے، 4 لاکھ 67 ہزار غذائی اشیاء، 53 ہزار 466 کمبل پاکستان پہنچائے گئے جبکہ ترکی پاکستان کو قدرتی آفات  سے  نمٹنے  کیلئے  پیشگی اطلاعاتی نظام فراہم کرنے ، تکنیکی مدددینے  اور  ٹیکنالوجی کی منتقلی کو تیار ہے۔

ان خیالات  کا  اظہار ترکیہ کے سفیر مہمت پاچاجی اور ترکیہ کے  آفات سے نمٹنے والے ادارہ “آفاد” کے وائس چیئرمین اوندر بوزکرت نے   بدھ کو یہاں  پاکستان میں سیلاب متاثرین کی ہر ممکن مدد، بحالی اور تعمیر نو کے  معاملہ پر    منعقدہ   پریس کانفرنس سے  خطاب میں کیا ۔

پاکستان میں ترکیہ کے سفیر مہمت پاچاجی نے کہا ہے کہ پاکستان کو تاریخ کی بدترین اور بڑی آفت کا سامنا ہے، ترکیہ کی حکومت اور عوام نے پاکستان اور پاکستانیوں کی مدد میں زرہ برابر دیر نہیں لگائی، سیلاب کے فوراً بعد ترکیہ کا آفات سے نمٹنے والا ادارہ “آفاد” اور ترکیہ ہلال احمر یہاں پہنچا۔انہوں  نے کہا کہ  پاکستان اور ترکیہ کے عوام کے مابین دل سے دل اور روح سے روح کا رشتہ ہے، ترکیہ کی جانب سے انسانی ہمدردی کے تحت تمام امداد ترکیہ عوام کی جانب سے ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کسی بھی قدرتی آفت میں ترکیہ نے ہمیشہ بڑھ چڑھ کر مدد کی ہے۔

 آفاد کے وائس چیئرمین اوندر بوزکرت  نے   سیلاب متاثرین کے لیے ترک امدادی سرگرمیوں پر بریفنگ دی  اور  بتایا  کہ  سیلاب  کے بعد  ترکیہ نے پاکستان کے ساتھ “فضائی پل” تشکیل دیا ، ترکیہ فضائیہ کا پہلا طیارہ  28،  اگست 2022ء کو پاکستان پہنچا۔ اسی   طرح   سیلاب کے بعد  پاکستان کے ساتھ “مہربانی ٹرین”  کا سلسلہ شروع کیا گیا اور  ترکیہ کیجانب  سے  اب  “پاکستان مہربانی پل” تشکیل دیا جا رہا ہے۔

اوندر بوزکرت   نے کہا کہ ترکیہ نے 15 طیارے، 13 ریل گاڑیاں بھیجیں اور بحری جہاز بھیجے جا رہے ہیں، جن  کے  ذریعے  سیلاب متاثرین کے لیے 35 ہزار خیمے، 4 لاکھ 67 ہزار غذائی اشیاء، 53 ہزار 466 کمبل پاکستان پہنچائے گئے جبکہ ترکیہ سے ایران کے راستے “مہربانی ریل گاڑیاں” 7 ہزار 222 ٹن امدادی سامان پاکستان بھیجا گیا۔

اوندر بوزکرت نے کہا کہ ترکیہ کے 81 صوبوں سے امدادی ٹرکوں پر مشتمل قافلے بھی پاکستان بھیجے جا رہے ہیں۔سیلاب متاثرین کے لیے 6 ہزار سے زیادہ کچن سیٹس، 34 ہزار سے زیادہ کپڑے، دو کروڑ 82 لاکھ 64 ہزار طبی آلات، ادویات  فراہم کی گئی ہیں  جبکہ سیلاب متاثرین کے بچاؤ، امدادی سامان کی ترسیل کے لیے 50 موٹر بوٹس بھی فراہم کی گئی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ  اس وقت 2 لاکھ 50 ہزار سیلاب زدگان ترکیہ کے لگائے خیموں میں مقیم ہیں۔

آفاد کے وائس چیئرمین اوندر بوزکرت  نے کہا کہ سیلاب  متاثرین کو  مچھردانیاں، پانی صاف کرنے کے لیے فلٹریشن پلانٹس اور دیگر اشیاۓ بھی فراہم کی گئی  ہیں ، جانوروں کی صحت کو بہتر بنانے اور بیماریاں دور کرنے کے لیے بھی بھرپور مدد فراہم کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایسے  تمام علاقے جہاں قدرتی آفات کا خطرہ ہو وہاں جدید نظام درکار ہے،قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے پیشگی اطلاعاتی نظام انتہائی اہم ہے،پاکستانی حکام کو قدرتی آفات سے نمٹنے، خطرات کو کم کرنے کے لیے ترکی کے دورے کی دعوت دی ہے ،ترکی پاکستان کو پیشگی اطلاعاتی نظام فراہم، تکنیکی مدد، ٹیکنالوجی کی منتقلی کو تیار ہے۔