اسلام آباد،20اکتوبر (اے پی پی):چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے کہا ہے کہ برادر اسلامی ملک تیونس کے ساتھ برادرانہ اور تاریخی تعلقات ہمارے لئے باعث فخر ہیں اورمشترکہ مفادات کی بنیاد پر تعلقات کو بڑھانے کیلئے پرامید ہیں۔دونوں ممالک کے تعلقات مشترکہ عقائد، تاریخ اور ثقافت پر مبنی ہیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان میں تعینات تیونس کے سفیر سے گفتگو میں کیا ، جنہوں نے جمعرات کو یہاں پارلیمنٹ ہائوس میں چئیرمین سینٹ سے ملاقات کی ۔ملاقات میں دوطرفہ تعلقات سمیت باہمی دلچسپی کے امور، معاشی، ثقافتی، تعلیمی اور تجارتی روابط کو مزید فعال بنانے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔
چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے کہا کہ پاکستان اور تیونس کے مختلف بین الاقوامی مسائل پر مشترکہ خیالات ہیں جس کی عکاسی عالمی فورمز پر ان کے مشترکہ موقف سے ہوتی ہے۔دونوں ممالک کے مابین دوطرفہ تجارتی حجم مزید بڑھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے گوادر اور سی پیک روٹس پر اپنی سمندری بندرگاہ کے ذریعے تیونس کو وسطی ایشیائی ریاستوں اور چین کے ساتھ تجارتی روابط بڑھانے کا ایک منفرد موقع فراہم کیا ہے جس سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔
چیئرمین سینیٹ نے اسلاموفوبیا کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں اسلاموفوبیا سے نمٹنے کیلئے تمام اسلامی برادر ممالک میں اتفاق وقت کی ضرورت ہے۔مسلم ممالک کو اسلاموفوبیا جیسے مسائل سے نمٹنے کیلئے اپنے اختلافات کو بھلا کر اس مسئلے پر یکجا ہونے کی اشد ضرورت ہے۔
چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ تیونس افریقہ کا اہم ملک اور پاکستان کا قریبی دوست ہے۔دونوں ممالک کے درمیان تجارت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کیلئے جامع حکمت عملی اور تجارتی وفود کے تبادلوں پر مزید توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
تیونس کے سفیر نے چیئرمین سینیٹ کو دونوں ممالک کے مابین تمام شعبوں میں باہمی روابط کو مزید مستحکم بنانے پر اتفاق کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ ہر سطح پر سفارتی تعاون میں مزید بہتری کیلئے یقین دہانی کرائی۔انہوں نے پاکستان میں حالیہ بارشوں اور سیلاب سے ہونی والی تباہ کاریوں پر چیئرمین سینیٹ سے افسوس کا اظہار کیا۔











