اسلام آباد۔27اکتوبر (اے پی پی):وزیراعظم کے مشیر برائے امور کشمیر قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ عمران خان بند کمروں میں منتیں ترلے اور باہر نکل کر دھمکیاں دیتے ہیں، عمران خان ملکی نظام کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں، انہوں نے اداروں کو تقسیم کرنے کی کوشش کی، عمران خان نے سائفر کے نام پر ڈرامہ رچایا، جھوٹ بول کر قوم کو گمراہ کرنے کی کوشش کی، دوسروں کو این آر او کا طعنہ دینے والے عمران خان اب خود این آر او چاہتے ہیں، انہیں کسی صورت این آر او نہیں ملے گا، ملک کی بہتری کے لئے آئین کی بالادستی ضروری ہے، ادارے اپنا آئینی کردار ادا کر رہے ہیں۔ جمعرات کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے قمر زمان کائرہ نے کہا کہ آج پاک فوج کے ترجمان کی جانب سے غیر معمولی نیوز کانفرنس کی گئی، ملک کی بہتری کے لئے آئین کی بالادستی ضروری ہے۔ سیاسی جماعتوں اور اداروں نے اپنی غلطیوں سے سیکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادارے اپنا آئینی کردار ادا کر رہے ہیں، اداروں کا سیاست میں مداخلت نہ کرنا قابل تحسین ہے۔ آج شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بے نظیر بھٹو کی ارواح خوش ہوں گی جس کام کے لئے انہوں نے قربانیاں دیں اور وہ جو لکیر کھینچنا چاہتے تھے وہ کھینچی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کے استحکام کے لئے ہم سب کو مل کر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ یہی توازن پاکستان کو درست کرے گا اور ملکی استحکام کا باعث بنے گا۔ قمر زمان کائرہ نے کہا کہ عمران نیازی نے سائفر پر ڈرامہ رچایا، ان کی آڈیو لیکس میں ہے کہ وہ اس سائفر کے ساتھ کھیلنا چاہتے تھے۔ عمران نیازی نے سائفر کے ساتھ کھیلتے کھیلتے ملکی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے ساتھ کھلواڑ کیا۔ انہوں نے کہا کہ عمران نیازی نے آئی ایم ایف اور پاکستان کے معاہدے پر حملے کر کے ملکی معیشت کو نقصان پہنچایا، وہ پاکستان کو مستحکم کرنے کی بجائے غیر مستحکم کرنے کے ایجنڈے پر گامزن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی ادارہ عمران نیازی کو سہولت فراہم کرے، ان کی بات مان لے تو وہ اس کے حق میں ہوتے ہیں اور اگر وہ ان کا کہنا ماننے سے انکار کر دے تو وہ اسے غدار ڈیکلیئر کر دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو ان کے ساتھ چلے وہ ٹھیک، نہ چلے تو وہ غدار، یہ کون سا طریقہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران نیازی قوم کو جھوٹ بول کر بہکانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے آٹھ سال تک ممنوعہ فنڈنگ کیس میں عمران خان کو تاریخیں دیں، اس وقت تک چیف الیکشن کمشنر ٹھیک تھے، وہ انہیں توسیع تک دیتے رہے لیکن جب ڈسکہ الیکشن میں الیکشن کمیشن نے حقائق بیان کئے تو وہ انہیں برا بھلا کہنے لگے اور ادارے کو تباہ کرنا شروع کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن عمران نیازی کی جعل سازی کو ناکام بنا دے ان کی سپورٹ نہ کرے تو وہ الیکشن کمیشن انہیں قبول نہیں۔ جو میڈیا ان کی زبان بولے وہ ان کا قریبی اور جو ان کے ساتھ نہ ہو، اس کی زندگی عذاب بنا دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران نیازی کون سا کلچر ملک میں لانا چاہتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ عمران نیازی بند کمروں کے اندر منتیں ترلے کرتے ہیں اور باہر نکل کر دھمکیاں اور گالیاں دیتے ہیں، جو ان کی بات مانے وہ بہت اچھا، نہ مانے تو اسے دھمکیاں۔ انہوں نے کہا کہ جب عمران نیازی کی دھمکیوں نے کام کرنا چھوڑ دیا تو وہ ملک کو غیر مستحکم کرنے کی کوششوں پر اتر آئے، قوم کو ہیجان میں مبتلا کر دیا۔











