قومی اسمبلی  میں بچوں کے عالمی دن کے موقع پر متفقہ  طور پر   قرارداد کی منظوری

12

اسلام آباد،18نومبر  (اے پی پی):قومی اسمبلی نے بچوں کے عالمی دن کے موقع پر متفقہ طور پر ایک قرارداد کی منظوری دی ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ملک میں تمام بچوں کی یکساں طور پر نشوونما ، جمہوری عمل میں ان کی شرکت اور ان کی ہر طرح سے دیکھ بھال کو یقینی بنایا جائے اور بچوں سے متعلقہ ہر طرح کے جرائم کے لئے قانون سازی کی جائے اور اس سلسلے میں قائم پارلیمانی کاکس کو فعال کرنے کے لئے ہر سطح پر تعاون کو یقینی بنایا جائے۔

جمعہ کو قومی اسمبلی میں پارلیمانی کاکس برائے چائلڈ رائٹس کی کنوینئر مہناز اکبر عزیز نے ایوان سے قواعد معطلی کی تحریک کی منظوری کے بعد قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایوان موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات کے نتیجے میں 16 ملین بچوں کی مشکلات کو شدت سے محسوس کرتا ہے، پاکستان میں شدید بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے کم از کم 34 لاکھ بچے اور بچیاں متاثر ہوئے اور انہیں فوری طبی امداد کی شدید ضرورت رہی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایوان پاکستان میں پیدا ہونے والے ہر بچے کے ساتھ ساتھ ان کی مائوں کے حقوق کو بھی تسلیم کرتا ہے اور تمام بچوں کے لئے بہترین دیکھ بھال اور محفوظ ماحول کی فراہمی کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایوان ہر بچے کی زندگی کے پہلے ہزار دن کی اہمیت کو سمجھتا ہے جو دماغ کی نشوونما اور بچوں کی بہترین صحت اور مستقبل کی نشوونما کی بنیاد رکھنے کے لئے مواقع کا ایک منفرد دور ہوتا ہے۔ یہ ایوان بچوں کی سمگلنگ، بچوں کے ساتھ بدسلوکی اور ان کے ساتھ بے رحمانہ برتائو کی مذمت کرتا ہے اور فحش نگاری اور  جسم فروشی جیسے غیر انسانی اور وحشیانہ جرائم کو روکنے کے لئے موثر قانون سازی کی سفارش کرتا ہے اور اس حوالے سے موجود قوانین پر عملدرآمد پر زور دیتا ہے۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ یہ ایوان 1973ء کے آئین میں درج بچوں کے حقوق کے تحفظ کا یقین دلاتا ہے۔ اقوام متحدہ کے حقوق اطفال کنونشن کے تحت یہ ایوان معاشرے میں امن اور ہم آہنگی قائم کرنے ، صحت مند زندگی کے لئے سازگار ماحول پیدا کرنے کے لئے بچوں کی اہم معاملات میں شرکت کو یقینی بنانے کا عہد کرتا ہے۔ یہ ایوان آئین کے آرٹیکل 11 کے تحت بچوں سے جبری مشقت لینے کی سختی سے ممانعت کرتا ہے۔ یہ ایوان آئین کے آرٹیکل 25 اے میں درج بچوں کی معیاری تعلیم کے حصول کے لئے یکساں مواقع پیدا کرنے کا عہد کرتا ہے۔ اور یہ ایوان ماں اور بچے  کی غذائیت میں کمی  اور پاکستان کے مستقبل کے تحفظ کے لئے بچوں کی متاثر ہونے والی نشوونما کے خطرے سے نمٹنے کے لئے کوشوں کا عزم کرتا ہے اور عہد کرتا ہے کہ جو بچہ جسمانی، ذہنی یا دیگر معذوریوں کا شکار ہے اسے خصوصی علاج ، تعلیم اور دیکھ بھال کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ یہ ایوان بچوں کی اہم معاملات میں شرکت کے مواقع پیدا کرنے کا عہد کرتا ہے کیونکہ ان کی شمولیت جمہوریت کے مستقبل کے لئے اہم ہے۔ یہ ایوان  بچوں پر مبنی قانون سازی ، وکالت اور نگرانی کے لئے بچوں کے حقوق کے لئے قائم پارلیمانی کاکس کی مزید حمایت اور مضبوطی کا اعادہ کرتا ہے اور زیادہ سے زیادہ تعمیل کو یقینی بنانے کے لئے بچوں کے حقوق پر قومی کمیشن کو فعال کیا جائے۔ قومی اسمبلی نے قرارداد کی اتفاق رائے سے منظوری دے دی۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے ساتھ ساتھ ارکان نے دیگر امور پر اظہار خیال کیا ۔ بعد ازاںسپیکر راجہ پرویز اشرف نے قومی اسمبلی کا اجلاس پیر کی شام 5 بجے تک ملتوی کردیا ۔