اسلام آباد،7دسمبر (اے پی پی):انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹیجک سٹڈیز کے زیر اہتمام “آزادی کے 75 سال: قومی سلامتی کا جامع حصول” کے موضوع پر دو روزہ اسلام آباد کنکلیو 2022 بدھ کو یہاں شروع ہوگیا ہے۔ افتتاحی سیشن میں انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹیجک سٹڈیز کے ڈائریکٹر جنرل سابق سفیر اعزاز احمد چوہدری نے شرکاءکا خیر مقدم کرتے ہوئے ادارہ کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی جبکہ سابق سینیٹر اور سابق وفاقی وزیر اطلاعات جاوید جبار نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
پہلے سیشن سے سابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل (ر) زبیر محمود حیات، ڈین فیکلٹی آف ایرو اسپیس اور اسٹریٹجک اسٹڈیز ایئر یونیورسٹی اسلام آباد ڈاکٹر عادل سلطان، وائس ایڈمرل (ر) احمد سعید، سی ای او نیشنل ایرو اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک ائیر کموڈور ڈاکٹر لیاقت اللہ اقبال اور انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹیجک سٹڈیز کے ڈائریکٹر اے سی ڈی سی ملک قاسم مصطفی نے خطاب کیا۔
دوسرے ورکنگ سیشن سے سابق خارجہ سیکرٹری اور امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیرجلیل عباس جیلانی نے ”پاکستان بھارت تعلقات“ پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ سابق چیف جسٹس گیمبیا جسٹس علی نواز چوہان نے ”تنازعہ کشمیر کا حل: جنوبی ایشیا میں دیرپا امن کے لیے ضروری ہے“ کے موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
اس موقع پر انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹیجک سٹڈیز کے انڈیا سٹڈی سنٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ارشد علی نے بھارت کے غیر قانونی طور پر زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے علاوہ مسئلہ کشمیر کے مختلف پہلوئوں پر روشنی ڈالی۔ تقریب میں انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹیجک سٹڈیز کے بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین سابق سفیر خالد محمود نے بھی شرکت کی۔











