کوئٹہ،29دسمبر (اے پی پی):صوبائی وزیر داخلہ ضیاء لانگو ، صوبائی مشیراطلاعات مٹھا خان کاکڑ اور آئی جی پولیس بلوچسان عبدالخالق نے کہا ہے کہ کچھ عرصے سے مولانا ہدایت الرحمان نے گوادر و اطراف کو دھرنے کے ذریعے یرغمال کردیا ہے۔
انہوں نے یہ بات گوادر دھرنے کے بارے میں کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔ صوبائی وزیر داخلہ ضیاء لانگو نے کہا کہ کچھ عرصے پہلے وزراء گئے، مذاکرات کیے لیکن مولانا ہدایت نے ان کا مذاق اڑایابعد میں خود گیا سیکرٹریز گئے تو خود اعتراف کیا کہ ہمارے مطالبات مان لیے گئے۔ اس سے قبل صوبائی حکومت نے وزیراعلیٰ بلوچستان کی قیادت میں حق دوتحریک کے تمام مطالبات تسلیم کئےاور گوادر میں حق دو تحریک کے احتجاج کے حوالے سے صوبائی حکومت نے باربار مذاکرت کئےاس کے باوجود گزشتہ روز حق دو تحریک کے مشتعل افراد نے سرکاری املاک کا نقصان پہنچانے کی کوشش کی جب مشتعل افرادکی جانب سے شرپسندی کی جائے گی تو قانون بھی حرکت میں آئے گا۔
صوبائی وزیرداخلہ نے مزید کہا کہ احتجاج ہر ایک کا جمہوری حق ہے، طریقہ ہوتا ہے، لاپتہ افراد کے لواحقین کئی عرصےسے پریس کلب کے سامنے پر امن احتجاج کررہے ہیں، کسی نے ان کیخلاف کارروائی نہیں کی، اس کے برعکس مولانا اسٹیچ پر بزرگ لوگوں و رہنمائوں کیخلاف نازیبا تقاریر کرتے ہیں تاکہ گوادر میں حالات خراب ہوں، ان کے مطابق گوادر پاکستان کا مستقبل ہے، گوادر پاکستان کا حب بنے جارہاہے ۔
انہوں نے کہا کہ گوادر میں دھرنا ایسے جگہ پر دیا جارہاہے جہاں چائینز کی آمد رفت ہےاور چائنیز کی سکیورٹی بہت اہم ہے گو ادر دھرنے کے باعث دنیا کے سرمایہ کار نہیں آئیں گے جس کی وجہ سے آخرکار گوادر دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ کیا کہ چائنیز کی سکیورٹی سمیت دیگر مسائل حل ہوں لیکن گوادر دھرنے کا نہ صرف مقام ٹھیک نہیں تھا بلکہ دھرنا مسلح بھی تھا اور انکی پولیس پر فائرنگ ایک اہلکار شہید بھی ہواجس پر حکومت نے سخت اقدا م کیا۔











