ملتان، 15 مارچ (اے پی پی ):کمشنر انجینئر عامر خٹک نے گندم خریداری مہم کے بہترین انتظامات کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسان کی محنت سے اگائی گئی گندم کا دانہ دانہ خریدا جائے گا،حکومت پنجاب کی جانب سے کسان دوست پالیسی بنائی گئی ہے،تمام گندم خریداری مراکز پر شکایت نمبر ڈسپلے کئے جائیں، تمام افسران کاشتکاروں کی شکایت کا فوری ازالہ کریں۔
ان خیالات کا اظہار کمشنر عامر خٹک نے گندم خریداری بارے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔کمشنر عامر خٹک نے گندم ذخیرہ اندوزوں، اسمگلنگ مافیا کے خلاف شکنجہ سخت کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ کسان کے استحصال کی اجازت نہیں دی جائے گی،محکمہ فوڈ سخت حکمت عملی اپناتے ہوئے اقدامات کرے۔
اس موقع پر ڈپٹی ڈائریکٹر فوڈ شاہد کھوکھر نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہپنجاب بھر میں 3.5 ملین میٹرک ٹن گندم خریداری کا ہدف فکس کیا گیا ہے۔ ملتان ڈویژن میں 6 لاکھ میٹرک ٹن گندم خریدی جائے گی۔3900 روپے فی من گندم خریداری کا ریٹ مقرر کیا گیا ہے۔ تمام کاشتکاروں کو ضرورت کے مطابق باردانہ مہیا کیا جائے گا جبکہ سنٹر انچارج زیادہ سے زیادہ 700 باردانہ جبکہ ڈی ایف سی 1000 باردانہ مہیا کرسکے گا۔
ڈی ڈی فوڈ نے بتایا کہ ڈویزن میں گندم کی سمگلنگ روکنے کیلئے 33 چیک پوائنٹس بنائے گئے ہیں۔انٹر ڈسٹرکٹ 24 موٹر وے پر 9 چیک پوائنٹس بنائے گئے ہیں۔ ڈویژن میں 110 شرکت کمپنیاں رجسٹرڈ ہیں۔ 48 گندم خریداری مراکز قائم کئے گئے ہیں۔تمام سنٹرز ہفتہ کے سات دن صبح 9 تا شام 5 بجے تک کھلے رہیں گے۔ پرائیوٹ سطح پر گندم کے 1000 کلو گرام گندم رکھنے کی اجازت ہوگی،موسم کی صورتحال کی مطابق مارچ کے آخری ہفتے تک گندم خریداری مہم کا باقاعدہ آغاز کردیا جائے گا۔
اجلاس میں ایڈیشنل کمشنر سرفراز احمد ، اسسٹنٹ کمشنر سٹی سیمل مشتاق ، متعلقہ محکموں کے افسران موجود تھے۔











