اسلام آباد،7اپریل (اے پی پی):وزارت خارجہ کی جانب سے قومی اسمبلی کو بتایا گیا کہ واشنگٹن میں پاکستان کی خستہ حال عمارت کو فروخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے بولی کا عمل مکمل ہو چکا ہے، وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد سب سے زیادہ موصول ہونے والی بولی کو عمارت فروخت کردی جائے گی۔اس کے علاوہ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران کوئی عمارت بیچی یا خریدی نہیں گئی ۔
جمعہ کو وقفہ سوالات میں سکندر علی راہو پولو کے سوال کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری سید حسین طارق نے کہا کہ وزارت خارجہ میں کفایت شعاری کے حوالے سے اقدامات اٹھائے گئے جس کے تحت 28 کروڑ کی بچت کی گئی ہیں۔ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ فارن مشنز کے فنڈز وہیں سے پورے کئے جائیں تاہم کبھی کبھی یہاں سے ضمنی گرانٹ کی ضرورت پڑ جاتی ہے ۔ وزارت خارجہ کو بیرون ملک مشنز میں ادائیگیاں ڈالرز میں کرنا پڑتی ہیں، ڈالر کی قدر میں اضافہ کی وجہ سے بھی مسائل درپیش ہیں۔
وجہیہ قمر کے سوال کے جواب میں مہر حسین طارق نے کہا کہ بجٹ کی منظوری کے وقت ڈالر کا جو ریٹ ہوتا ہے اسے مدنظر رکھا جاتا ہے اگر اس دوران روپے کی قدر میں کمی ہو جاتی ہے تو اس سے مسائل برھ جاتے ہیں۔ غلام علی تالپور کے سوال کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری خارجہ امور سید حسین طارق نے کہا کہ گزشتہ چار پانچ سالوں کے دوران واشنگٹن میں ایک جائیداد کی حالت خراب ہونے کی وجہ سے بین الوزارتی کمیٹی کی اجازت لینے کے بعد فروخت کی جارہی ہے،اس کے علاوہ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران بیرون ملک نہ کوئی جائیداد خریدی گئی اور نہ ہی کوئی فروخت کی گئی۔
سائرہ بانو کے سوال کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری سید حسین طارق نے کہا کہ واشنگٹن میں عمارت کی فروخت کی منظوری بین الوزارتی کمیٹی نے دی تھی۔ بولی کا سارا عمل مکمل ہو چکا ہے، توقع سے زیادہ قیمت ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ سے جو زیادہ سے زیادہ بولی ملی ہے وہ وفاقی کابینہ کے پاس منظوری کے لئے بھجوائی گئی ہے۔











