پاکستان کی نظریاتی اور دفاعی سرحدوں کی حفاظت کیلے آزادی، خودمختاری، قومی وقار اور قومی مفادات کے تحفظ پر مبنی پالیسی کی ضرورت ہے، دفاع پاکستان کونسل

30

 

اسلام آباد،8اپریل  (اے پی پی):دفاع پاکستان کونسل میں شامل سیاسی، دینی اور مذہبی  جماعتوں اور تنظیموں کے قائدین نے پاکستان کی نظریاتی اور دفاعی سرحدوں کی حفاظت کیلیے ایک ایسی حکمت عملی کی بنیاد رکھنے کی ضرورت پر زور دیا ہے جو ہماری آزادی، خودمختاری، قومی وقار اور قومی مفادات کے تحفظ پر مبنی ہو، قوموں کی سیاسی و عسکری طاقت ان کی معاشی طاقت پر منحصر ہوتی ہے، آزادی و خودمختاری، قومی تشخص، قومی وقار، شخصی خوش حالی اور ملک کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کے لیے معیشت بنیادی اہمیت کی حامل ہے، پروپیگنڈہ اورمیڈیاوارکے ذریعے جھوٹ اورفساد پھیلایاجارہاہے جس سے ملک میں انتشاربڑھ رہاہے،  آج ملک میں ذاتی سیاست کیلئے ریاست اور پوری قوم کو قربان کیا جا رہا ہے جو اس فورم کو کسی صورت قبول نہیں ، سیاسی فرقہ واریت فسادکی شکل اختیارکرچکی ہے جس کی وجہ سے قوم تقسیم کا شکارہے، سیاست کودشمنی کا رنگ دیں گے تو ایسا طوفان برپا ہوگا جو پورے سسٹم کو تباہ و برباد کر دیگا، معیوب زبان، گالی گلوچ اور بلا تحقیق تنقید نہ ہی اسلامی تعلیمات ہیں اور نہ ہی مشرقی روایات کی امین، سوشل میڈیاکے ذریعے منظم پروپیگنڈہ کرکے حقائق کومسخ کیا جا رہا ہے،وقت کا تقاضا ہے کہ ہم فوری سنبھل جائیں اور معاملات سڑکوں پر طے کرنے کی  بجائے متعلقہ ایوانوں میں حل ہوں اسی میں سب کی بہتری ہوگی مسائل تصادم سے نہیں بلکہ مکالمہ سے حل کیے جائیں ہم  واضع پیغام دیتے ہیں کہ کسی بھی انتشار کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور یہ کونسل اپنے ملک کی سلامتی اور دفاع کیلئے اپنی ریاست اور قوم کیساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہوگی۔

 ان خیالات کا اظہار جملہ قائدین نے اہم اجلاس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس اور اعلامیہ میں کیا ہے۔ اس سلسلہ میں دفاع پاکستان کونسل کا اہم اجلاس چیئرمین دفاع پاکستان کونسل مولانا حامد الحق حقانی کی زیر صدارت اسلام آباد میں منعقد ہوا،

دفاع پاکستان کونسل کے رہنمائوں نے مشترکہ اعلامیہ جاری کیااور پریس کانفرنس بھی کی۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ  ہمارے ملک کواس وقت مختلف چیلنجزدرپیش ہیں، بیرونی دشمن کے ساتھ اندرونی سازشیں بھی ملک کوعدم استحکام کا شکار کررہی ہیں، ہر گزرتے دن کے ساتھ ملک میں سیاسی عدم استحکام بڑھتاجا رہا ہے جسکا براہِ راست اثر زندگی کے تمام شعبوں پر  ہو رہا ہے، سیاست دانوں کی غلطیوں کا خمیازہ عام شہری بھگت رہاہے اور نجانے کب تک بھگتے گا، سیاسی  و معاشی عدم استحکام پاکستان کی  بنیادوں کو کمزور کرکے اس کی سالمیت کو خطرات سے دوچار کررہا ہے، معاشی بدحالی کی وجہ سے ملک کا بچہ بچہ قرضوں میں جکڑاہوا ہے ، چندارب ڈالرکے لیے آئی ایم ایف ہماری ناک سے لکیریں نکلوارہاہے،دشمن عالمی طاقتیں پاکستان کی کمزورمعاشی حالت سے لطف اندوزہورہی ہیں اورہمارے ملک کے چندکرداران کے ہاتھ کا کھلونا بنے ہوئے ہیں ۔

 اعلامیہ میں  کہا گیا کہ قوموں کی سیاسی و عسکری طاقت ان کی معاشی طاقت پر منحصر ہوتی ہے، آزادی و خودمختاری، قومی تشخص، قومی وقار، شخصی خوش حالی اور ملک کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کے لیے معیشت بنیادی اہمیت کی حامل ہے، دفاع اور معیشت ساتھ ساتھ چلتے ہیں،خوشحال عوام ہی کسی قوم کی اصل طاقت ہوتی ہے، لیکن بدقسمتی سے گذشتہ چند برسوں سے ہماری معیشت مسلسل تنزلی کا شکار ہے، تمام منفی معاشی اشاروں کے باوجود اگر یہ ملک چل رہا ہے تو اسے اللہ کے خصوصی فضل اور عوامی استقامت کا پھل سمجھنا چاہیے، ملک کے سیاسی کردار  ملک کی ابتر معاشی صورت حال، ناانصافی، دہشتگردی اور دنیا میں بدلتے ہوئے تقاضوں کو نظر انداز کر کے صرف اپنے سیاسی فوائد کے حصول کے لیے مصروفِ عمل ہیں اور ملکی سالمیت دائوپرلگا رکھی ہے، پروپیگنڈہ اورمیڈیاوارکے ذریعے جھوٹ اورفساد پھیلایاجارہاہے جس سے ملک میں انتشاربڑھ رہاہے،  آج ملک میں ذاتی سیاست کیلئے ریاست اور پوری قوم کو قربان کیا جا رہا ہے جو اس فورم کو کسی صورت قبول نہیں، سیاسی فرقہ واریت فسادکی شکل اختیارکرچکی ہے جس کی وجہ سے قوم تقسیم کا شکارہے، سیاست کودشمنی کا رنگ دیں گے تو ایسا طوفان برپا ہوگا جو پورے سسٹم کو تباہ و برباد کر دیگا، معیوب زبان، گالی گلوچ اور بلا تحقیق تنقید نہ ہی اسلامی تعلیمات ہیں اور نہ ہی مشرقی روایات کی امین، سوشل میڈیاکے ذریعے منظم پروپیگنڈہ کرکے حقائق کومسخ کیا جا رہا ہے،  قوم کی اخلاقی تباہی معاشی تباہی سے بھی خوفناک ہے مگراس کاہمیں اداراک ہی نہیں،  وطن عزیز کو اپنی بقا، آزادی و خودمختاری، قومی افتخار، اور اہم قومی مفادات کے دفاع کا مسئلہ درپیش ہے۔

 دفاع پاکستان کونسل میں شامل دیگر جماعتوں کے قائدین  سربراہ اہلسنت والجماعت مولانا محمد احمد لدھیانوی ، امیر مشائخ و علما کونسل مولانا فضل الرحمان خلیل ،تحریک جوانان پاکستان عبد اللہ حمید گل ، سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار عتیق احمد خان ، رکن آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی مولانا پیر مظہر شاہ ، پاکستان راہ حق پارٹی کے رہنما شیخ محمد اقبال، مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری مولانا سید عتیق الرحمان شاہ، مسیحی برادری کی نمائندگی بشپ نذیر عالم، سکھ برادری کی نمائندگی سردار پرتاب سنگھ، اشاعت والتوحید کے رہنما مولانا اشرف علی، قبائل مومنٹ کے رہنما مولانا اسد اللہ حقانی، جمعیت علما اسلام (س) کے مرکزی جنرل سیکریٹری مولانا سید محمد یوسف شاہ، مولانا عبد القدوس نقشبندی، مولانا ایوب خان ثاقب، مولانا عبد الحئی حقانی، حافظ عبد الرفیع، مولانا اعظم حسین، قاری امین الحسنات ، اہلسنت والجماعت کے مولانا عطا محمد دیشانی ودیگر نے شرکت کی۔