ملتان۔ 17 مئی (اے پی پی):چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس محمدامیربھٹی نے کہا ہے کہ انصاف کی جلدفراہمی کیلئےوکلاءکواپناکرداراداکرناہوگا، یہ تب ہی ممکن ہے جب باراوربینچ کے درمیان احترام کارشتہ قائم رہے، وکلاءبلاوجہ ہڑتال نہ کریں تو سائل کوانصاف کی فراہمی جلدممکن ہوسکتی ہے، بلاوجہ کی ہڑتال کاخاتمہ اب ضروری ہوگیاہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز ملتان ہائیکورٹ بار کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ میں یہاں پہلے میزبان بعد میں مہمان ہوں،جو مطالبات خواتین وکلاءکے ہیں وہ جلد پورے ہوجائیں گے،خواتین وکلاءکی تعداد بڑھ چکی ہے،مختص کردہ جگہ اب کم ہے، صدر ہائیکورٹ بار ملتان نے جو مطالبات کیے ہیں ان میں سے جو اختیار میں ہوئے وہ پورے ہوجائیں گے ۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ جو عدالتیں یہاں بن سکتی ہیں انکے لیے کوشش کی جائے گی،حکومت فنڈز اور طریقہ کار کے مطابق معاملات دیکھ لے گی،حکومت نے جو فنڈز ہائیکورٹ بار کو دیے تھے اسکا استعمال یہاں نظر نہیں آرہا،صدر ان معاملات کو دیکھیں ، بار ہال کی تزئین و آرائش کا کام مکمل کریں باقی ضرورت بھی پوری کردیں گے ۔معزز جج نے کہا کہ نوجوان وکلاءبڑوں کا ادب کریں اور مقام حاصل کریں ،کامیابی کا ایک ہی راستہ ہے کہ بزرگوں کا ادب کریں۔انہوں نے کہا کہ وکلاءالیکشن لڑا تو سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ، لیکن مخالفت کے باوجود کسی کا احترام کرنا نہیں چھوڑا ، آج جو مخالف ہیں کل اچھے ساتھی ہوسکتے ہیں بس اپنا رویہ درست رکھیں۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ پورے پنجاب کی بارز میری ذمہ داری ہیں،کسی بھی بار کا مسئلہ ہوتا ہے تو ترجیح پر حل کراتے ہیں ، بارز کی ذمہ داری ہائیکورٹ پر ہے جو پوری کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔علاوہ ازیں چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس محمدامیربھٹی نے ملتان ہائیکورٹ بنچ میں زیر تعمیرنئے ایڈمن بلاک کامعائنہ کیا۔بعدازاں چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے جنوبی پنجاب کی مختلف ڈسٹرکٹ وتحصیل بارکے نمائندوں، ملتان ہائیکورٹ بار اوربہاولپورہائیکورٹ بار کے عہدیداران سے ملاقات کی۔ بار ایسوسی ایشنزکے نمائندوں نے اپنے اپنے علاقے کی بارروم کودرپیش مسائل بارے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کا آگاہ کیا۔چیف جسٹس نے جائزمسائل کوترجیحی بنیادوں پرحل کرانے کی یقین دہانی کرائی۔











