اسلام آباد،05جون(اے پی پی): مائرین صحت اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے فنانس بل 2023-24 میں زیادہ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی لگاکر میٹھے مشروبات کی کھپت کو کم کرنے کے عوامی صحت کے ایجنڈے کو پٹری سے اتارنے کے لیے مشروبات کی صنعت کی کوششوں پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔
یہ بات پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن، ذیابیطس ایسوسی ایشن آف پاکستان، پاکستان نیوٹریشن اینڈ ڈائیٹک سوسائٹی کی صدر ڈاکٹر فائزہ، فیملی فزیشنز ایسوسی ایشن سے ڈاکٹر مظہر مرزا، ، اینڈوکرونولوجسٹ سوسائٹی کے صدر ڈاکٹر ابرار صاحب، پناہ کے سینئیر وائس پریزیڈنٹ ڈاکٹر عبدلقیوم اعوان، وزارت صحت سے ڈاکٹر خواجہ مسعود، پاکستان کڈنی پیشنٹ ویلفیئر ایسوسی ایشن سے غلام عباس، اور سول سوسائٹی الائنس، پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر خالد رندھاوہ، ہارٹ فائل سے ڈاکٹر صباء امجد، میڈیا کی طرف سے ذائد فاروق، ، علماء کے زیر اہتمام مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہی۔
سیکرٹری جنرل پناہ ثناء اللہ گھمن نے کہا کہ میٹھے مشروبات پر ٹیکس لگانا موٹاپے، ذیابیطس اور دل کی بیماری میں تیزی سے ہونے والے اضافےکے خلاف ایک موثر،اور ثابت شدہ طریقہ ہے۔ آج تک، کم از کم 105 ممالک، شہروں اور خطوں نے میٹھے مشروبات پر ایکسائز ٹیکس لگائے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں شدید خدشات ہیں کہ مشروبات کی صنعت موٹاپے، ٹائپ 2 ذیابیطس، کینسر، جگر اور گردے کی بیماریوں کو کم کرنے کے لیے حکومت کی کوششوں کو ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے، اور فنانس بل 2023-24 میں ٹیکس سے بچنے کی کوشش کر رہی ہے۔
پبلک ہیلتھ ایڈووکیٹ اور گلوبل ہیلتھ ایڈووکیسی انکیوبیٹر کے کنسلٹنٹ منور حسین نے کہا کہ بہت سے ممالک کی طرف ہونے والے شواہد ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہمیٹھے مشروبات پر ٹیکس میں اضافہ مشروبات کی صنعت کے دلائل کے برعکس، اجرت میں کمی، روزگار میں کمی، یا معیشت پرکوئی منفی اثر نہیں ڈالتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ میٹھے مشروبات پر ٹیکس ان کے استعمال کوکم کرتے ہیں اور لوگوں کو صحت مند متبادل جیسے پانی اور بغیر میٹھا دودھ کا انتخاب کی طرف راغب کرتے ہیں۔
صحت عامہ کے ماہرین اور سول سوسائٹی کے نمائندے حکومت پر زور دے رہے ہیں کہ وہ چینی والے مشروبات سمیت تمام قسم کے میٹھے مشروبات کے استعمال کو کم کرنے کے لیے اقدامات کرے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی تجاویز واضح طور پر بتاتی ہیں کہ غیر کیلوری والی مٹھائیاں صحت کے لیے یکساں طور پر نقصان دہ ہیں اور غیر متعدی امراض کے لیے بڑھتا ہو خطرہ ہیں۔ وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشن اینڈ کوآرڈینیشن نے پہلے ہی فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو تمام میٹھے مشروبات پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کو 50 فیصد تک بڑھانے کی تجویز پیش کی ہے جس میں سوڈا، انرجی ڈرنکس، جوس، پھلوں کے جوس، اسکواش، شربت، ذائقہ دار دودھ اور نان کیلورک سویٹنرز شامل ہیں۔
صدر پاکستان نیوٹریشن اینڈ ڈائیٹکس سوسائٹی فائزہ خان نے کہا کہ پاکستان میں موٹاپے اور خوراک سے متعلق بیماریوں کی بڑھتی ہوئی شرح میں میٹھے مشروبات کے استعمال کا سب سے بڑا حصہ ہے۔ میٹھے مشروبات میں پائی جانے والی شکر کی مائع شکلیں خاص طور پر جسم کے لیے نقصان دہ ہوتی ہیں۔ مائع شکر جسم کے لیے کم تسلی بخش ہوتی ہیں اور ان میں کوئی اضافی غذائیت نہیں ہوتی۔ جب ہم ان مشروبات کا استعمال کرتے ہیں، تو ہمیں پیٹ بھرنے کا احساس نہیں ہوتا، اس لیے کل کیلوریز کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ میٹھے مشروبات خوراک میں چینی کا سب سے بڑازریعہ ہیں۔
جنرل سیکرٹری ذیابیطس ایسوسی ایشن آف پاکستان ڈاکٹر عبدالباسط نے کہا کہ پاکستان دنیا بھر میں پہلا ملک بن گیا ہے جہاں 31 فیصد بالغ افراد ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہیں۔ پاکستان میں ذیابیطس کے انتظام کی سالانہ لاگت 2.6 ارب امریکی ڈالر تک بڑھ گئی ہے۔میٹھے مشروبات پر ٹیکس لگانے جیسے شواہد پر مبنی اقدامات کے ذریعے اس طوفان کو روکنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر ہم ذیابیطس کو روکنے میں کامیاب نہیں ہوئے تو یہ پورے ترقیاتی ایجنڈے کو پٹڑی سے اتار دے گا۔
پریس سے بات کرتے ہوئے پاکستان کڈنی پیشنٹ ویلفیئر ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری غلام عباس نے کہا کہ ذیابیطس کے تقریباً نصف مریضوں کو ان کے گردے میں پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں اور ہمیں ان میں سے بہت سے لوگوں کو ڈائیلاسز پر رکھنا پڑتا ہے۔ میٹھے مشروبات کا استعمال ملک کی صحت عامہ اور معیشت کے لیے سنگین خطرات کا باعث ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو اس کی کھپت کو کم کرنے کے لیے تمام اقدامات کرنے چاہئیں اور مشروبات کی صنعت کی طرف سے اپنے کارپوریٹ مفادات کے کسی بھی دباؤ کو مسترد کرنا چاہیے۔
ڈاکٹر ابرار نے کہا کہ میٹھے مشروبات بہت سی بیماریوں کی بڑی وجہ ہیں اور اینڈوکرونولوجسٹ سوسائٹی ان پر ٹیکسز کا مطالبہ کرتی ہے۔
ڈاکٹر خواجہ مسعود نے کہا کہ وزارت صحت ان مضر صحت مشروبات پر ٹیکس بڑھانے کی پہلے ہی تجویز پیش کر چکی ہے،صحت عامہ کے حامیوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے پاکستان ہیلتھ ریسرچ کونسل کی جانب سے 2021 میں کرائے گئے رائے عامہ کے نتائج کو بھی شیئر کیا تاکہ میٹھے مشروبات پر ٹیکس بڑھانے کے لیے عوامی حمایت کا اندازہ لگایا جا سکے۔ 2021 میں کیے گئے قومی رائے عامہ کے سروے کے مطابق، 78 فیصد بالغ پاکستانیوں نے حکومت کی حمایت کی کہ میٹھے مشروبات پر ٹیکس میں اضافہ کیا جائے تاکہ اس کی کھپت کو کم کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ، ہر 10 میں سے 8 بالغ افراد حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ میٹھے مشروبات کے استعمال کو کم کرنے کے لیے اقدامات کرے۔











