پشاور،4 جولائی(اے پی پی): گورنرخیبرپختونخوا حاجی غلام علی نے کہا ہے کہ پبلک سیکٹرز یونیورسٹیوں میں وائس چانسلرز کی تعیناتیوں میں میرٹ اورشفافیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوناچاہئیے۔ یونیورسٹیوں میں وائس چانسلرز کی حیثیت ایک ٹیم لیڈر کی ہوتی ہے جس میں تعلیمی وانتظامی قابلیت سمیت تمام پہلووں کو باریک بینی سے دیکھناچاہئیے۔
یہ بات انہوں نے صوبہ کی اعلیٰ تعلیمی جامعات میں مستقل بنیادوں پر وائس چانسلرز کی تعیناتیوں اورسرچ کمیٹی سمیت یونیورسٹیوں کے مشکلات سے متعلق گذشتہ روز گورنرہاؤس میں منعقدہ اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کے دوران کی۔
اجلاس میں نگران صوبائی وزراء بیرسٹرفیروزجما ل شاہ کاکاخیل، جسٹس(ر)ارشاد قیصر، حامدشاہ، چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ندیم اسلم چوہدری، سیکرٹری محکمہ قانون، سیکرٹری محکمہ اعلی تعلیم، پرنسپل سیکرٹری برائے گورنر ارشادمظہر اوردیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس میں عرصہ دراز سے صوبہ کی مختلف یونیورسٹیوں میں مستقل بنیادوں پر وائس چانسلرز کی بروقت تعیناتیاں نہ ہونے سے یونیورسٹیوں کو درپیش مالی وانتظامی اور تعلیمی مسائل ومشکلات پر گفتکو کی گئی۔
اجلاس میں صوبے میں نئے بننے والی یونیورسٹیوں شرینگل، تیمرگرہ سمیت دیگر پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں میں وائس چانسلرز کی تعیناتی اور سرچ کمیٹی کے بارے میں تفصیلی غور کیا گیا اور بعض شکایات بھی زیربحث لائی گئیں۔
چیف سیکرٹری نے یونیورسٹیوں کے معاملات اور وی سی کی تعیناتی کے حوالے سے اجلاس کو آگاہ کیا۔ اس کے علاوہ اجلاس میں قائمقام سیکرٹری قانون اور سیکرٹری محکمہ اعلی تعلیم نے بھی یونیورسٹیوں میں وائس چانسلرز کی تعیناتی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیاکہ وائس چانسلرز کی تعیناتی فوری طور پر کی جائے اورنگران وزیربرائے اعلیٰ تعلیم وقانون اورچیف سیکرٹری سے کہا گیا کہ چیئرمین سرچ کمیٹی سے بات کی جائے کہ کسی بھی صورت میرٹ کی خلاف ورزی نہ ہو اورنہ ہی کسی امیدوار کے ساتھ زیادتی ہونی چاہئے۔
اس موقع پر گورنر نے کہا کہ وائس چانسلرز کی تعیناتی میں کسی بھی طور میرٹ اور شفافیت کے برعکس کوئی فیصلہ نہ ہو اورچیف سیکرٹری،قائمقام سیکرٹری قانون سمیت دیگر حکام کو ہدایت کی کہ موصول ہونیوالے شکایات کو سرچ کمیٹی کے نوٹس میں لایا جائے اور ایسا کوئی اقدام نہ اٹھایا جائے جس سے میرٹ متاثر ہو۔
انہوں نے کہا کہ یونیورسٹیوں کو تمام سہولیات مہیا کرنے سمیت تنخواہوں میں اضافے کو بھی مدنظر رکھناچاہئیے تاکہ ان کے مالی مشکلات کا خاتمہ ہو اور وہ اپنی تمام تر توجہ طلباء و طالبات کی بہترتعلیم وتربیت پر مرکوز رکھ سکیں۔ تمام وائس چانسلرز، معزز فیکلٹی اراکین اور دیگر سٹاف سمیت ہم سب ملکر یونیورسٹیوں کے معیار اور مقام کو بلند کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔
ہر گزرتے وقت کے ساتھ تعلیمی شعبہ میں تبدیلیاں آرہی ہیں،تحقیق کے شعبہ میں ہمیں دور جدید کے چیلنجز کے مطابق آگے بڑھنا ہوگا اور اس کے لئے تمام یونیورسٹیوں میں مطلوبہ سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ طلباء وطالبات یونیورسٹیوں سے دورجدید سے ہم آہنگ اعلی اور معیاری تعلیم میں انمول ہیرے بن کرفارغ ہوں، تاکہ نہ صرف عملی میدان میں اپنے ملک وقوم کی صحیح طور پر خدمت کرسکیں بلکہ ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا حصہ ڈالیں اور اقوام عالم میں بھی اپنے ملک وقوم کا نام روشن کرسکیں۔
انہوں نے کہا کہ ملکی ترقی و خوشحالی کا بوجھ اب تعلیم یافتہ نوجوانوں نے اٹھانا ہے، موجودہ دور ٹیکنالوجی کا دور ہے اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس نوجوانوں نے ملک کو مشکلات سے نکالنا ہے۔











