لاہور، 06 جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ محمد نوازشریف کو سسلین مافیا کہنے والے آہستہ آہستہ بے نقاب ہو رہے ہیں۔
جمعرات کو یہاں یونیورسٹی آف ایجوکیشن کے مرکزی کیمپس ٹاون شپ لاہور میں نئے تعمیر ہونے والے اکیڈمک بلاک، سٹوڈنٹس سروس سنٹر، سٹوڈنٹس ہاسٹل، ہیلتھ اینڈ ڈے کیئر سنٹر اور بیچلر فیکلٹی ہاسٹل کی افتتاحی تقریب سے خطاب و میڈیا سے گفتگو کرتے ہو ئے ان کا کہنا تھا کہ بلاشبہ علم ہی وہ خزانہ ہے جس کے حصول کا نتیجہ سماجی، اخلاقی اور معاشی ترقی کی صورت میں رونما ہوتا ہے، لہذا ہم نے علم کی معراج حاصل کرنی ہے کیونکہ جس قوم میں علم کی جستجو نہیں ہوتی وہ ہمیشہ غلامی میں رہتی ہے۔
وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ ہمیں علمی تحریک کی ضرورت ہے، جس کیلئے موجودہ عوامی حکومت انقلابی اقدامات کر رہی ہے، ہم نے ویژن 2025 کے تحت ملک بھر میں یونیورسٹیوں کانیٹ ورک قائم کیا اور اسی وژن کے تحت جدید ضروریات بشمول آرٹیفیشل انٹیلی جنس، جینیٹکس، ڈیجیٹل انقلابی اصلاحات اور ٹیکنالوجی کے منصوبوں کیلئے مراکز قائم کئے گئے۔
احسن اقبال نے کہا کہ طلبا اور اساتذہ کی تعلیمی و تعمیری ترقی کیلئے ہر سطح پر اصلاحات کی گئیں، اگرچہ یہ سفر درمیان میں کچھ وقت کیلئے تھم گیا لیکن عوامی امنگوں کی ترجمان اور عصرحاضر کے تقاضوں سے آگاہ حکومت نے پھر سے ملکی تعمیر و ترقی کا سفر شروع کر دیا ہے۔
وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ ملک کا مستقبل جامعات سے جڑا ہے کیونکہ وہاں ہمارے نوجوان زیرتعلیم و تربیت ہیں۔انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور کے انفراسٹرکچر میں توسیع اعلی تعلیم کے فروغ کی راہ مزید ہموار کرے گی، 2018 میں ہم نے ان منصوبوں کی بنیاد رکھی اور آج ان کی تکمیل دیکھ کر نہایت مسرت کا احساس ہو رہا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت ملک کے اندر ترقی یافتہ ممالک کی جامعات کی سہولیات فراہم کرنے کیلئے پرعزم ہے، آج جن پراجیکٹس کا میں نے افتتاح کیا ہے ان میں دستیاب سہولیات کسی بھی ترقی یافتہ ملک کی جامعہ سے معیار میں کم نہیں، اب پاکستان کے اساتذہ اور طلبا کی ذمہ داری ہے کہ ان سہولیات سے استفادہ کرکے اپنی جامعہ کو دنیا میں ممتاز بنائیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یونیورسٹی اپنے ویژن اور بنیادی مقاصد کو مدنظر رکھتے ہوئے اساتذہ اور طلبا کی تعلیم و تربیت، بامعنی و عملی تحقیق کے اطلاق کو جاری رکھے گی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ آج لاہور یونیورسٹی آف ایجوکیشن آکر نہایت مسرت کا احساس ہو رہا ہے کہ کل کا پودا آج کا تناور درخت بن چکا ہے، جو ملک کی تعلیمی و تحقیقی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کر رہا ہے۔
بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ ہمارے مخالف حامد خان اقرار کرچکے ہیں کہ سازش کے تحت چیئر مین پی ٹی آ ئی کو لاکر ملکی معیشت تباہ کی گئی اور ملکی وقار گروی رکھ کر آئی ایم ایف سے قرضہ لیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کیخلاف غیروں نے نہیں بلکہ اپنوں نے سازش کی اور اس نوبت تک پہنچا دیا کہ ہم آئی ایم ایف کے محتاج ہوگئے، آج کوئی دشمن بھی نہیں کہ سکتا کہ پاکستان سری لنکا کی طرح ڈیفالٹ کر جائے گا لیکن اندر سے لوگ مسلسل پاکستان کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حامد خان نے بھی کہہ دیا کہ محمد نوازشریف کو نکالنے کا فیصلہ پانامہ فیصلے سے پہلے ہو چکا تھا، محمد نوازشریف کی حکومت کو نہیں نکالا بلکہ ملک کی ترقی چھین لی گئی، فریب میں مبتلا کرکے دھوکہ دکھایا گیا ۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ محمدنوازشریف دور کا ایک ایک منصوبہ متنازعہ بناکر بند کیا گیا اور متبادل بھی نہیں دیاگیا ،یہ منصوبہ تھا کہ چار سال میں مخالفین کی پگڑی اچھال کر جیل بھر دو۔ انہوں نے کہا کہ مجھے نارووال شہر میں سپورٹس کمپلیکس بنانے کی سزا دی گئی۔
ملکی سسلین مافیا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہاکہ جو سسلین مافیا کا حصہ رہے وہ لوگ ہی محمد نوازشریف کی بے گناہی کی گواہیاں دے رہے ہیں ، محمد نوازشریف کو غیر آئینی طورپر سازش کے تحت اقتدار سے علیحدہ کرکے پاکستان کو سزا دی گئی۔
احسن اقبال نے مزید کہا کہ جن لوگوں نے ملک کو تنزلی کی طرف بھیجا اب ان غلطیوں کو ٹھیک کرنے کا وقت آ گیا ہے ،انشااللہ محمد نوازشریف جلد پاکستان آکر ملک کو ترقی دیں گے اور انتخابی عمل کا حصہ بھی بنیں گے۔
تقریب سے خطاب میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر طلعت نصیر پاشانے جامعہ کے انفراسٹرکچر کی بہتری کیلئے وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی طرف سے فراہم کردہ خصوصی تعاون کو سراہتے ہوئے ان کی جانب سے گہری دلچسپی اور مسلسل تعاون پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند سال میں یونیورسٹی آف ایجوکیشن میں تعلیمی و تعمیری ترقی کے حوالے سے بے پناہ کام کیا گیا ہے، جامعہ نے مختصر وقت میں طلبا کے لئے نئے اکیڈیمک بلاکس، ہاسٹلز اور لیبارٹریز بنانے کے ساتھ اعلی تعلیمی یافتہ اساتذہ کو بھرتی کیا۔
انہوں نے کہا کہ تعلیم و تحقیق کے میدان میں باہمی فروغ اور ترقی کیلئے ملکی و غیر ملکی اداروں کے ساتھ مفاہمت کی یاداشتوں پر دستخط کرتے ہوئے انہیں عملی جامہ پہنایا گیا، آج یونیورسٹی آف ایجوکیشن میں مقامی طلبا کے ساتھ چین، گیمبیا اور ایران سے غیرملکی طلبا بھی زیورِ تعلیم سے آراستہ ہو رہے ہیں۔
وائس چانسلر نے مزید کہا کہ جامعہ میں اس وقت 50 ہزار سے زائد طلبہ زیر تعلیم ہیں، صنعتی اداروں سے اشتراک کرکے انڈسٹری اکیڈیمیا کے رشتے کو مضبوط بنایا جا رہا ہے۔
تقریب کے آخر میں وائس چانسلر کی طرف سے معزز مہمان کو جامعہ کی خصوصی شیلڈ بھی پیش کی گئی۔
اس موقع پر یونیورسٹی آف ایجوکیشن، لاہور کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر طلعت نصیر پاشا ، جامعہ کے پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد ارشد، سینڈیکیٹ ممبرز،اساتذہ، سٹاف ، طلبا و طالبات اور معروف علمی و سماجی شخصیات کثیر تعداد میں موجود تھی۔











