دل اور اس سے متعلق بیماریوں سے بچاؤ کے لیے ماؤں کا کردار اہم ہے ؛ ماہرین صحت

35

اسلام آباد،13 جولائی  (اے پی پی ):دل اور اس سے متعلق بیماریوں میں خوراک کا کردار بہت اہم ہے، خوراک میں میٹھے کا زیادہ استعمال ان بیماریوں کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے اور میٹھے کا سب سے زیادہ استعمال میٹھے مشروبات کی صورت میں ہوتا ہے جس کے ایک چھوٹے گلاس میں 7سے9چمچ چینی موجود ہوتی ہے۔  میٹھے مشروبات کا استعمال  دل، زیابیطس، گردوں کے امراض  موٹاپے،، مختلف طرح کے کینسر اور دیگر غیر متعدی امراض کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔ اپنے بچوں کو ان مضر صحت مشروبات کے استعمال سے بچانے کے لیے ماؤں اور اساتذہ کا کردار بے حد اہم ہے۔

 یہ بات ماہرین صحت نے پناہ کے زیراہتمام  میٹھے مشروبات کے صحت پر ہونے والے نقصانات  اور ان کے بچاؤ کے لیے ماؤں کے کردار کے حوالے سے ایک پروگرام سے بات کرتے ہوئے کہی۔ صحت کی پارلیمانی سیکریڑی ڈاکٹر شازیہ صوبیہ اسلم سومرو تقریب کی مہمان خصوصی تھیں۔

ڈاکٹر شازیہ سومرو نے پروگرام سے  خطاب میں کہا  کہ دل اور دیگر غیر متعدی بیماریوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ خوراک کے حوالے سے ہمارے غیر محتاط رویے بھی ہیں۔ ان میں  تلی ہوئی اشیاء،  نمک اور چینی کا زیادہ استعمال  شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ  چینی  کے بہت زیادہ استعمال کی وجہ سے پاکستان اس  وقت زیابیطس کے تیزی سے  پھیلاؤ میں دنیا میں پہلے نمبر پر آ چکا ہے۔  ماؤں کو اپنے بچوں کی صحت کے لیے ان کی خوراک پر خصوصی توجہ دینا ہو گی۔انہوں نے  کہا کہ  پناہ  حکومت کے ساتھ مل کر اپنے ملک کے مستقبل یعنی بچوں کی صحت کے لیے قابل قدر خدمات سر انجام دے رہا ہے۔

مہمانوں میں ممبر قومی اسمبلی زہرہ ودود فاطمی،   گلوبل ہیلتھ ایڈووکیسی انکوبیٹر کے کنسلٹنٹ منور حسین،   پروفیسر کرنل شکیل احمد مرزا،  نیشنل کمیشن آن دی رائٹس  آف چائلڈ کی چیر پرسن  افشاں تحسین و دیگر نے شرکت کی۔

  کرنل  شکیل احمد مرزا نے کہا کہ دنیا بھر میں میٹھے مشروبات کے صحت پر ہونے والے نقصانا ت کی وجہ سے ان کے استعمال میں کمی کے لیے بہت موئثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان اقدامات میں ان مشروبات پر ٹیکسوں میں اضافہ،  فرنٹ آف پیک لیبلنگ اینڈ وارننگ سائنز، سکول فوڈ پالیسی اور  ان مشروبات کی مارکیٹنگ پر پابندی  شامل ہیں۔

منور حسین نے کہا کے غیر متعدی بیماریاں دنیا میں اور پاکستان میں اموات کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔ خوراک کا درست انتخاب ان بیماریوں میں خاطر خواہ کمی لا سکتا ہے۔

افشاں تحسین باجوہ نے کہا کہ صحت مند غذاء بچوں کا بنیادی حق ہے۔ اس سے لاپروائی کی قیمت بچوں میں بہت سی بیماریوں کی صورت میں بھگتنا پڑتی ہے اس لیے اپنے بچوں کی خوراک کا درست انتخاب والدین کی اولین ترجیع ہونا چاہیے۔

 دیگر مقررین نے بھی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے ماں کے کردار  کی اہمیت پر  زور دیا۔