اسلام آباد،20جولائی (اے پی پی):وزیرمملکت برائے پٹرولیم مصدق ملک نے کہا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی نےذاتی مفاد کے لئے آئین اور قانون کوپامال کیا اور اپنے حلف کو توڑا،سائفر کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیاگیا،عمران خان نے بطور وزیراعظم سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کی،ہزاروں لوگوں کے سامنے جلسے میں بتایا کہ سائفر گم ہو گیا ہے،آئین کے تحت ملک کی خفیہ دستاویزات کو ظاہر نہیں کیا جاسکتا۔
ان خیالات کا اظہارانہوں نے جمعرات کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتےہوئے کیا۔ مصدق ملک نے کہا کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین نے جلسے میں ہزاروں لوگوں کے سامنے پرچہ لہراتےہوئے بتایا کہ یہ ریاست پاکستان کی خفیہ دستاویز ہے جس کے تحفظ کی ذمہ داری وزیراعظم سمیت سب پر ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ عمران خان نے جلسے میں سائفر لہرایا تو اس قانون کی خلاف ورزی ہوئی ہے کہ نہیں جس کے تحت تمام خفیہ دستاویزات کو خفیہ رکھنے کی پابندی ہے۔ کابینہ ، پارلیمنٹ اور وزیراعظم کے حلف میں یہ تحریر ہے کہ کوئی ایسی خفیہ چیز کسی پر عیاں نہیں کی جاسکتی جسے خفیہ رکھنے کی آئین کے تحت ذمہ داری ہے۔
وزیرمملکت مصدق ملک نے کہا کہ عمران خان نے قانون کو پامال کرتے ہوئے اپناحلف توڑا اور پوری دنیا کے سامنے وہ سائفر کا کاغذ لہرایا۔ قانون میں لکھا ہوا ہے کہ اگر خفیہ دستاویز عیاں کی جائے تو اس کی سزا 17 سال سے زیادہ اور اگر اس کو گم کر دیا جائے تو اس کی سزا 3 سال ہو گی۔ سائفر وزیرخارجہ ، سیکرٹری خارجہ ، وزیراعظم یا سکیورٹی سے متعلق کوئی معاملات ہوں تو چند شخصیات کے سوا کوئی نہیں دیکھ سکتا۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے جلسے میں بتایا کہ سائفر گم ہو گیا ہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے بطور وزیراعظم سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کی ۔ انہوں نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے اپنی حکومت کو الٹانے کی سازش کا امریکا پر بار بار الزام لگایا لیکن کچھ عرصہ بعد سب نے عمران خان کو کانگریس کی رکن کے سامنے گڑ گڑاتے ہوئے بھی دیکھا ۔ ان میں کون سی بات سچ ہے کیا امریکا نے پاکستان کے آئین کو پامال کیا یا پھر یہ سچ ہے کہ امریکی کانگریس کی رکن سے کہا گیا کہ وہ ان کے لئے آواز اٹھائیں۔
مصدق ملک نے کہاکہ عمران خان نے تو ڈیوڈفنٹن نامی لابسٹ کی امریکا میں خدمات حاصل کیں جس نے ساری زندگی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف پراپیگنڈا کیا۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے تو امریکا پر الزام نے لگایا تھا کہ اس نے پاکستان کے نظام میں مداخلت کی ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے بڑی مشکلات اور محنت کے بعد آئی ایم ایف کا پروگرام بحال کرایا۔ اس پروگرام اور آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کو ناکام بنانے کے لئے 2 صوبائی وزرا ئے خزانہ سے خط لکھنے کے لئے بھی کہاگیا تھا۔
وزیرمملکت مصدق ملک نے کہا کہ اعظم خان نے کوئی نئی بات نہیں کی اس نےجو کچھ کہاہے وہ سب کو پتہ ہے۔ سائفر کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیاگیا۔ عمران نیازی اپنی ذات کے لئے آئین اور قانون کو پامال کرتا رہا اور اپنے لوگوں کو فائدے پہنچاتارہا، اب ایسے نہیں ہوگا۔چیئرمین پی ٹی آئی نے آئین، ملک اور قانون کو پامال کیا۔قومی سلامتی کمیٹی نے اپنے اعلامیے میں کہاکہ کوئی سازش نہیں ہوئی تھی۔ آئین کے مطابق ملک کی خفیہ دستاویزات کو ظاہر نہیں کیا جا سکتا۔ اگر ظاہر کیا جائے تواس کی سزا مقرر ہے۔
ایک سوال کے جواب میں مصدق ملک نے کہا کہ اگر کسی کو گرفتار کرنا مقصود ہو تو اسے باقاعدہ قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے کرنا چاہیے۔ اعظم خان نے 164 کا بیان مجسٹریٹ کےسامنے دیا ہے۔عمران خان کی آئین شکنی اور قانون شکنی سامنے آ گئی ہے اور اعظم خان نے اس کی تصدیق کی ہے۔ اعظم خان نے مجسٹریٹ کے سامنے بیان دیا ہے اگر وہ اپنے بیان سے مکر بھی جائیں تو کیا عمران خان کی طرف سے کی جانے والی آئین شکنی اور قانون شکنی ختم ہو جائے گی۔











