آئی ٹی کے استعمال سے خدمات کی فراہمی کو بہتر، عوامی شکایتوں کو کم کیا جاسکتا ہے، وفاقی محتسب

72

کراچی۔ 24 جولائی (اے پی پی):وفاقی محتسب اعجاز احمد قریشی نے کہا ہے کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کا استعمال، عوام کو سہولت پہنچانے اور سرکاری اداروں میں میرٹ کی بنیاد پر تقرریوں سے خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے اور عوامی شکایات کو کافی حد تک کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔انہوں نے ریجنل آفس کراچی کے دورے کے موقع پر وفاقی محتسب سیکریٹریٹ کی کارکردگی پر پیر کو نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ نادرا اور ایس این جی پی ایل کی جانب سے آئی ٹی پر مبنی ڈیجیٹل سسٹم میں بہتری لانے کے بعد وفاقی محتسب کے پاس ان اداروں کے خلاف دائر ہونے والی شکایات کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے استعمال سے نہ صرف نگرانی کا نظام مضبوط ہوتا ہے بلکہ یہ ادارے کے معمول کے کام میں  شفافیت کو بھی یقینی بناتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوام کی رہنمائی اور ان کی شکایات کے اندراج کے لیے سرکاری اداروں کے تمام بڑے دفاتر میں سہولت ڈیسک کا قیام بھی شکایات میں کمی کا باعث بن سکتا ہے۔محتسب نے تنظیمی سربراہوں کی میرٹ پر تقرری پر بھی زور دیا اور کہا کہ ایک مستعد اور قابل سربراہ کسی ادارے کی مجموعی کارکردگی کو بہتر بنا سکتا ہے۔اعجاز قریشی نے کہا کہ وفاقی محتسب نے 2008میں سیکرٹریٹ میں آئی ٹی سسٹم متعارف کرایا تھا اور اب وفاقی محتسب سیکرٹریٹ میں ڈیجیٹل سسٹم مکمل طور پر فعال ہے اور ملک بھر کے تمام دفاتر کی صورتحال کا جائزہ صرف ایک کلک سے باآسانی لیاجا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ وفاقی محتسب سیکرٹریٹ کو مزید فعال اورمئوثر بنانے کی کوششیں جاری ہیں تاکہ عوام کے مسائل کا جلد از جلد حل اور انہیں ریلیف کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔ محتسب نے بتایا کہ سال 2023میں سیکرٹریٹ کوابتک 102,520 شکایات موصول ہوئیں جبکہ نمٹائے گئے مقدمات کی تعداد 103,291رہی۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ رواں سال میں شکایات کی تعداد 180,000 سے تجاوز کر سکتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ وفاقی محتسب سیکرٹریٹ کو سال 2022 میں 164,173 شکایات موصول ہوئیں جو کہ 2021 میں درج کی گئی 110,405 شکایات سے 49 فیصد زیادہ ہیں جبکہ 2022 میں نمٹائی جانے والی شکایات کی تعداد 157,798 رہی جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 48 فیصد زیادہ ہے۔وفاقی محتسب سیکرٹریٹ 60 دن کے اندر شکایت کا ازالہ کرتا ہے جبکہ فیصلے پر ایک ماہ کے اندر عملدرآمد کو بھی یقینی بنایا جاتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ فیصلہ شدہ مقدمات میں تعمیل کا تناسب 90فیصد سے زیادہ ہے جبکہ باقی کیسز میں متعلقہ ادارے کے پاس فنڈز کی عدم دستیابی،  صدر سے اپیل یا عدالت میں معاملہ لے جانے کی وجہ سے عمل درآمد میں تاخیر ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں اور قدرتی گیس فراہم کرنے والی کمپنیوں کے صارفین کے تعداد لاکھوں میں ہے جس کی وجہ سے ان کے خلاف شکایات کی تعداد بھی زیادہ ہے،یہی معاملہ ایسے دیگر سرکاری اداروں کے ساتھ بھی ہے جو پبلک ڈیلنگ کرتے ہیں یا ان کے ملازمین کی تعداد زیادہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بی آئی ایس پی ، نادرا اور پوسٹل لائف انشورنس کے خلاف عوامی شکایات کی تعداد زیادہ ہے۔انہوں نے کہا کہ محتسب کے علاقائی دفاتر مختلف بڑے شہروں میں کام کر رہے ہیں جبکہ دور دراز کے علاقوں میں لوگوں کی شکایات سننے اور ان کے حل کے لیے ٹائونز اور تحصیل ہیڈ کوارٹرز میں مشیروں کی کھلی کچہریاں بھی منعقد کی جارہی ہیں۔ایڈوائزر کو یہ بھی ہدایت کی گئی کہ وہ پبلک ڈیلنگ والے محکموں اور اداروں کے متواتر دورے کریں اور معمولی نوعیت کے مسائل کو موقع پر ہی حل کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کچھ مسائل ثالثی کے ذریعے بھی حل کئے جارہے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں اعجاز قریشی نے کہا کہ متعلقہ قانون کے مطابق ایف او ایس کو صرف انفرادی شکایات کا جائزہ لینے کا اختیار دیا گیا ہے جبکہ نظام میں موجود یا پالیسی مسائل کو وفاقی یا صوبائی حکومتیں اور پارلیمنٹ جیسے متعلقہ فورمز ہی حل کر سکتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ محتسب نے جیلوں میں اصلاحات، اسٹریٹ چلڈرن اور اس طرح کے دیگر مسائل پر متعلقہ شعبوں کے ماہرین پر مشتمل اعلی سطحی کمیٹیاں تشکیل دے کر رپورٹس تیار کی ہیں جنہیں وفاقی حکومت اور سپریم کورٹ میں پیش کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ تمام صوبوں نے جیلوں میں اصلاحات سے متعلق رپورٹ کی سفارشات پر عملدرآمد کے لیے اپنی رضامندی ظاہر کی تھی اور اس سلسلے میں بھی پیش رفت ہوئی ہے۔ضلعی انتظامیہ کی کارکردگی کے بارے میں ایک اور سوال پر محتسب نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ سے قانونی اختیارات واپس لینے کی وجہ سے گورننس کے کچھ مسائل سامنے آئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صوبائی اور ضلعی انتظامیہ کے مئوثر کام سے نچلی سطح پر بہتری آسکتی ہے لہذا وہ اپنے دفاتر سے باہر آئیں اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کریں۔محتسب نے عوام کو ان کے حقوق کے حوالے سے آگاہ کرنے میں میڈیا کے کردار کی تعریف کی اور میڈیا تنظیموں پر زور دیا کہ وہ عوام کو درپیش مسائل کے حل میں تعاون کریں۔ اس موقع پر سینئرایڈوائزر و انچارج ریجنل آفس کراچی سید انور حیدراور فوکل پرسن برائے میڈیا تقی محمد سومرو بھی موجود تھے۔