عوام کے جان و مال کی حفاظت صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے، باجوڑ واقعہ سے متعلق تفصیلات جلد سامنے لائیں گے ؛ بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل

25

پشاور، 31جولائی(اے پی پی): خیبرپختونخوا کے نگران وزیر برائے اطلاعات، اوقاف، حج، مذہبی اور اقلیتی امور بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے کہا ہے کہ عوام کے جان و مال کی حفاظت حکومت کی اولین ترجیح ہے، دہشتگردی کے ناسور کے خاتمے کے لیے کوشاں ہیں، پولیس کی استعداد میں اضافہ کر رہے ہیں، باجوڑ واقعہ کی تفتیش سے متعلق تفصیلات جلد سامنے لائیں گے۔

نگران صوبائی وزیر نے ان خیالات کا اظہار لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں باجوڑ دھماکے کے زخمیوں کی عیادت کے بعد میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ایل آر ایچ پہنچنے پر ہسپتال  ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد ابرار خان نے نگران صوبائی وزیر کو زخمیوں کے علاج معالجے سے متعلق بریفنگ دی۔ بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل دھماکے کے زخمیوں سے فرداً فرداً ملے اور ان کی خیریت دریافت کی۔ انہوں نے موقع پر موجود تیمارداروں سے بھی ملاقات کی۔

 بعد ازاں میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے کہا کہ گزشتہ روز  باجوڑ میں ہونے والے دھماکے میں کل 44 شہادتیں ہو چکی ہیں۔ مجموعی طور 200 کے قریب شہری زخمی ہوئے جن میں سے 100 کے لگ بھگ زخمی ہسپتالوں میں داخل ہوئے۔ انہوں نے کہا  کہ نگران وزیراعلی خیبرپختونخوا محمد اعظم خان کی ہدایت پر 17 شدید زخمیوں کو ہیلی کاپٹرز کے ذریعے سی ایم ایچ  لایا گیا۔ گزشتہ رات سی ایم ایچ میں زیر علاج زخمیوں میں سے 3 جان کی بازی ہار گئے۔ اس وقت  سی ایم ایچ میں 14 زخمی زیر علاج ہیں جن میں سے 2 کی حالت تشویشناک ہے۔

 بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے بتایا کہ  لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں اس وقت 16 زخمی زیر علاج ہیں جن میں سے 2 کی حالت تشویشناک ہے جبکہ  ایل آر ایچ میں داخل دیگر زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ انہوں  نے کہا کہ اس افسوسناک واقعہ کی پرزور مذمّت کرتے ہیں اور غمزدہ لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ نگران وزیراعلی آج باجوڑ گئے ہیں اور تمام امور کی خود نگرانی کر رہے ہیں۔ آئندہ  ایک دو روز میں اس واقعہ کی تفتیش سے متعلق تفصیلات سامنے آ جائیں گی۔

 نگران صوبائی وزیر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوام کے جان و مال کی حفاظت صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ اس سلسلے میں کسی قسم کی کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے اس ناسور کے خاتمے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں جس کے لیے پولیس کی استعداد میں اضافہ کر رہے ہیں۔ ضم اضلاع میں سات نئے پولیس اسٹیشنز سمیت آٹھ ہزارکے قریب پولیس جوانوں کو جدید تربیت دی گئی ہے۔کوئی مسلمان اس طرح کا فعل انجام نہیں دے سکتا۔

 ایک سوال کے جواب میں نگران صوبائی وزیر نے کہا کہ کسی بھی سیاسی اجتماع کے انعقاد کے لیے ایس او پیز ہونے چاہیے۔ اس حوالے سے آج صوبائی حکومت نے اجلاس بھی طلب کیا ہے۔