فیصل آباد ،31 جولائی(اے پی پی):وزیر مملکت صنعت و پیداوار تسنیم احمد قریشی نے کہا کہ ملک اس وقت مشکل دور سے گزر رہا ہے مگر ہم حالات پر قابو پالیں گے ، ہم مشاورت سے صنعت وتجارت دوست پالیسیاں بنارہے ہیں۔اگر پالیسیوں میں تسلسل رہے گا اور ہم شارٹ ٹرم کے ساتھ ساتھ لانگ ٹرم پلاننگ کریں گے تبھی ملک آگے بڑھے گا، صنعت وتجارت ترقی کرے گی اور ہمیں بیرونی قرضوں سے نجات مل سکے گی۔
وہ پیر کی دوپہر ایوان صنعت و تجارت فیصل آباد میں چیمبر کے عہدیداران و ممبران سمیت مختلف صنعتی تنظیموں کے ارکان سے خطاب کررہے تھے۔انہوں نے کہا کہ چونکہ وہ خود بھی ایک تاجر ہیں لہٰذا وہ تاجروں کے مسائل کو بخوبی سمجھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پارلیمینٹیرینز اور ارکان اسمبلی کاکام قانون سازی ہے اسلئے ان کی کوشش ہوتی ہے کہ ایسی قانون سازی کی جائے جس سے اپنے دستیاب ملکی وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے معاشی بد حالی اور لوگوں کے مسائل پر قابو پاناممکن اور بیرونی قرضوں سے بھی نجات مل سکے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی عوام بڑے مسائل کا شکار ہوچکی ہے جس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ گزشتہ حکومت نے تین چارسال کے دوران کوئی پالیسی نہیں دی بلکہ ماضی میں لوگوں سے جو وعدے کئے گئے انہیں بھی اب وزیراعظم شہباز شریف پورے کررہے ہیں۔
وزیر مملکت نے کہا کہ حکومت کو شدت سے احساس ہے کہ مڈل مین وسفید پوش آدمی پس گیاہے لیکن جب بھی ہماری حکومت آئی ہم نے کوشش کی کہ ہماری ایکسپورٹ بڑھے یہی وجہ ہے کہ ہمارے دور میں 2008 سے لیکر2013 تک ایکسپورٹ بڑھی مگر پھر کم ہونا شروع ہوگئی۔انہوں نے کہا کہ ہم بھی یہی چاہتے ہیں کہ پہلے لوگوں کی معاشی حالت بہتر بنائی جائے پھر ٹیکس لگایا جائے یعنی پہلے ہم ٹیکس پے کرنے کے قابل بنیں پھر ٹیکس ادا کریں۔
تسنیم قریشی نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ماضی میں جو پالیسیاں لائی گئیں وہ صرف ووٹ لینے کیلئے بنائی گئیں مگر ان پر ان کی حقیقی روح کے مطابق عمل نہیں ہوسکا۔انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس قدرت کے بہت سے خزانے ہیں،شمالی بلوچستان میں یورینیم وغیرہ کے انبار اور خزانے موجود ہیں جبکہ بیرونی کمپنی نے آفر کی ہے کہ ہمیں شمالی بلوچستان میں موجود معدنی ذخائر کو دریافت کرنے اور نکالنے کی اجازت دی جائے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے18 ویں ترمیم کے ذریعے صوبوں کو خود مختار کیااسلئے صوبوں کو وہ فیصلے کرنے چاہئیں جو لوگوں کی خدمت سمیت ان کی معاشی و معاشرتی حالت میں بہتری لاسکیں۔انہوں نے کہا کہ پی پی پی نے ہمیشہ سے ایڈ کی بجائے ٹریڈ کی بات کی اورجب جب ہماری حکومت آئی توہماری کوشش رہی کہ ہم اپنی ایکسپورٹ کو 3 سو ارب ڈالر تک لیکر جائیں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ حکومتوں نے غلطیاں کیں حالانکہ ہماری حکومت کے دور میں آئی ایم ایف منتیں کرتا تھاکہ ہم سے قرضہ لے لیں مگر ہم نے نہیں لیا کیونکہ یہ عوام کے مفاد میں نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ میاں صاحب نے بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم کرنے کیلئے آئی ایم سے پیسے لئے اور پھر عمران خان نے بھی یہی کام کیا ہے حالانکہ ہمارا مؤقف یہ رہاہے کہ جس سے پیسے لئے ان کوسود سمیت دینا بھی ہیں اسلئے ہمیں اپنے وسائل پیدا کرنے چاہئیں۔
وزیر مملکت تسنیم قریشی نے کہا کہ ہم اچھی سوچ لیکر عوام کے پاس جائیں گے اور بتائیں گے کہ اب بھی وقت ہے کہ اچھے فیصلے اور اچھی سوچ اپناکر ملک کو مستقل بنیادوں پر بحرانوں سے نکال لیا جا ئے۔انہوں نے کہا کہ تاجروں اور صنعتی وکاروباری شعبہ نے جو تجاویز دی ہیں وہ انہیں متعلقہ پلیٹ فارم پر پیش کریں گے اور ان کی کوشش ہوگی کہ ان مسائل کا فوری حل نکالا جا سکے۔
قبل ازیں فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹڑی کے سینئر نائب صدر ڈاکٹر سجاد ارشد نے وزیر مملکت تسنیم احمد قریشی کی چیمبر آمد پر ان کا خیر مقدم ہوئے انہیں فیصل آباد کی کاروباری اہمیت بارے آگاہ کیا۔انہوں نے بتایا کہ فیصل آباد پاکستان کے وسط میں موجود ہے اور ٹیکسٹائل کا ہب ہے جبکہ پاکستان کی ساٹھ فیصد ایکسپورٹ کا حصہ ٹیکسٹائل کے پاس ہے اسی طرح فیصل آبادہزاروں لوگوں کوروزگار فراہم کر رہا ہے۔
سینئر نائب صدرنے کہاکہ ہم حکومت کے مشکور ہیں کہ اس نے مشکل فیصلے کرکے ملک کو ڈیفالٹ ہونے سے بچایا۔ ڈاکٹر سجاد ارشدنے بجلی، گیس ودیگر ٹیکسز اور خام مال کی قیمتوں میں زبردست اضافہ کے باعث مصنوعات کی پیداواری لاگت پہنچ سے باہر ہونے کے بارے میں بتایا کہ فیصل آباد کی پچاس فیصد انڈسٹری بند ہوچکی ہے حالانکہ فیصل آبادصنعتی و کاروباری اعتبار سے ملک کا اہم ترین شہر ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو کوئی بھی پالیسی بنانے یا ایسے کسی بھی اقدام سے قبل تاجروں، صنعتکاروں اور تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کرکے ایسی پالیسیاں بنانی چاہئیں جو قابل عمل بھی ہوسکیں۔ اجلاس میں کاروباری حضرات کے مسائل اور انکے حل پربھی گفتگو کی گئی۔
دریں اثناچیمبر آف کامرس کے ایگزیکٹو ممبران نے بھی پی ایچ اے کی جانب سے عائد ٹیکسز کے مسئلے پر روشنی دالی۔انہوں نے مزید کہا کہ واسا کی جانب سے عائد ٹیکسزمیں بے پناہ اضافہ کردیا گیا ہے اس طرح پہلے جس شہری کا 1600 روپے بل آتاتھا اسے اب واسا کی جانب سے10ہزار روپے کا بل بھیج دیا گیا ہے جو سراسر ناجائز ہے۔
وزیر مملکت نے تاجروں کو یقین دلایا کہ وہ ان کے جائز مطالبات کے ضمن میں فوری پنجاب حکومت کے متعلقہ حکام سے بات کریں گے اور کوئی مناسب راستہ نکال لیا جائے گا۔











