پشاور،03 اگست (اے پی پی):سربراہ جےیوآئی مولانا فضل الرحمان نے باجوڑ خار کا دورہ کیا انہوں نے باجوڑ میں شہداء اور زخمیوں کے لواحقین سے ملاقات کی، گورنر خیبرپختونخوا حاجی غلام علی، امیر جےیوآئی فاٹا مولانا جمال الدین سمیت دیگر قیادت بھی انکے ہمراہ تھی ۔
مولانا فضل الرحمان نے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا ،شہدا کیلئے دعائے مغفرت کی اور پارٹی کی جانب سے شہداء کیلئے پانچ پانچ لاکھ اور زخمیوں کیلئے تین تین لاکھ روپے کا اعلان کیا ۔ مولانا فضل الرحمان نے شہداء کے اہلخانہ کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
مولانا فضل الرحمان نے باجوڑ میں سانحہ باجوڑ میں شہید اور زخمی ہونے والے کارکنوں اور رہنماؤں کے ورثاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ باجوڑ واقعے نے ہماری مسکراہٹوں کو چھین لیا ،ہمارے دلوں کی خوشیوں کو غموں میں ڈبو دیا قاتلوں سے کہتا ہوں کہ آپ ہمارے کارکنوں کے حوصلے پست نہیں کرسکے بلکہ ان کے حوصلے مزید بڑھ گئے ہیں ۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ میں جب ہسپتال گیا اور پہلے زخمی سے ملاقات کی اس کو سلام کیا تو اس نے قرآن کریم کی آیت پڑھی دوسرے زخمی نے کہا کہ میرے ساتھی شہید ہوگئے اور میں شہادت کی آرزو لئے یہاں لیٹا ہوا ہوں جس زخمی کے پاس جاتا اس نیت سے جاتا کہ میں اسے حوصلہ دونگا لیکن وہ مجھے حوصلہ دیتا اور کہتا کہ ہماری اس حالت پر آپ نے افسردہ نہیں ہونا ،آپ نے مضبوط رہنا ہے ہم مضبوط ہیں ۔میں ان کے اس جذبے کا کیا بدلہ دے سکتا ہوں۔
مولانا فضل الرحمان نےکہا کہ جو لوگ اس غلط فہمی میں ہیں کہ ہم جہاد کر رہے ہیں یہ غلط فہمی میں نہ رہیں یہ مفسدین ہیں جے یو آئی روز اوّل سے بدامنی کی آگ کو بجھانے کا فریضہ سرانجام دے رہی ہے ، مخالفین اس آگ کو بھڑکا رہے ہیں ،یہ یہودیوں اور منافقین کے ترجمان ہیں ان کو کیا پتہ کہ مسلمان کا خون کتنا مقدس ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں اپنے تحفظ کی راہیں خود تلاش کرنا ہونگی ، تحمل اور برداشت کو نہیں چھوڑیں گے لیکن حکمت عملی بنانا ہوگی ۔
سربراہ جےیوآئی مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ کل جمعہ کے روز قبائلی جرگہ طلب کرلیا ہے عمائدین کو سوچنا ہوگا کہ ہمارا یہ خطہ کب تک آگ میں جلتا رہے گا ، باجوڑ کے نمائندہ وفد کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ اس جرگے میں آئیں اور جرگے کو حقائق سے آگاہ کریں ، انسانی خون کا کوئی بدل نہیں ، اس واقعہ نے موقع فراہم کیا ہے کہ سارے پشتون قائدین مل بیٹھ کر اس مسئلے کا حل تلاش کریں ، آل پارٹیز کانفرنس کی تجویز بھی زیر غور ہے مرکزی شوری کے اجلاس میں آل پارٹیز کانفرنس کے لئے حکمت عملی بنائیں گے ۔











