کوئٹہ 08 اگست (اے پی پی ):بلوچستان اسمبلی کے 5 سال مکمل ہوگئے ۔ الوداعی اجلاس میں باجوڑ حملہ کی مذمت کی گئی ۔ صوبے میں مردم شماری دوبارہ کروانے کا مطالبہ بھی کیا گیا ۔ باجوڑ کے حملہ کی مذمتی قرارداد میں حملہ آوروں کی جلد گرفتاری اور متاثرین کو معاوضوں کی فوری ادائیگی کی قرارداد ایوان نے کثرت رائے سے منظور کی ۔ مردم شماری پر تحفظات کا اظہار بھی ایک علیحدہ قرارداد میں سامنے آیا ۔ قرارداد میں صوبے کی آبادی 67 لاکھ کم ظاہر کرنے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ۔اپوزیشن لیڈر ملک سکندر ایڈووکیٹ کی ہیش دونوں قراردایں کثرت رائے سے منظور ہوئیں ۔ بعد میں کاروائی غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی ۔ اسپیکر ، ڈپٹی اسپیکر اور 2 پینل آف چیرمین نے اجلاس چئیر کیا ۔ پانچ سالہ آئینی مدت میں بلوچستان اسمبلی کی کاروائی 474 دن جاری رہی ۔ 96 ایکٹ پاس ہوئے ۔ 196 قراردادیں بھی منظور کی گئیں ۔ 521 سوالات نمٹائے گئے ۔ 87 توجہ دلاؤ نوٹس ایوان میں پیش ہوئے ۔ 36 تحاریک التوا بھی ایوان کی کارروائی کا حصہ بنے ۔2018 کے انتخابات کے بعد بننے والی اسمبلی میں میر عبدالقدوس بزنجو 15 ویں اسپیکر بنے ۔ جام کمال پر عدم اعتماد کے بعد میر قدوس بزنجو نے 18ویں قائد ایوان کا منصب سنبھالا ۔ پانچ سالہ آئینی مدت کے دوران اپوزیشن لیڈر جے یو آئی کے ملک سکندر ایڈووکیٹ رہے ۔ گیارہویں منتخب بلوچستان اسمبلی کا پہلا اجلاس 13 اگست 2018 کو ہوا تھا ۔











