اسلام آباد،23اگست (اے پی پی):مختلف مکاتب فکر کے علماء، مذہبی سکالرز اور سیاسی عمائدین نے جڑانوالہ سانحہ کے ردعمل میں بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے ‘اسلام آباد اعلامیہ’ کا اعلان کیا۔ بدھ کو وفاقی دارالحکومت کے ‘آور لیڈی آف فاطمہ چرچ’ میں کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس میں مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں نے انصاف کے عزم کو اجاگر کرتے ہوئے جڑانوالہ میں پیش آنے والے واقعہ کی مذمت کی اور مبینہ طور پر اس کے ذمہ داروں کو فوری ٹرائل اور مثالی سزا دینے کا مطالبہ کیا۔ کانفرنس کے شرکاء نے حکومت سے واقعہ کی غیر جانبدارانہ اور مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا، اس کے نتائج کو عام کرنے اور شفافیت اور احتساب کو یقینی بنانے پر زور دیا۔
شرکاء نے وفاقی اور پنجاب حکومتوں کی جانب سے متاثرین کے خاندانوں کو فراہم کیے گئے معاوضے اور متاثرہ علاقے میں مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے مذہبی مقامات کی بحالی کے لیے فنڈز مختص کیے جانے کا اعتراف کیا۔ اس موقع پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے واضح کیا کہ جڑانوالہ میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے کا رخ مسیحی برادری کی طرف نہیں تھا بلکہ یہ ایک ایسا واقعہ تھا جس میں پورے پاکستان کو شامل کیا گیا تھا۔ اس واقعہ کے نتیجے میں نوجوان لڑکیوں کے جہیز کی تباہی ہوئی، اس نے ہم سب کو بہت متاثر کیا کیونکہ یہ لڑکیاں ہماری بیٹیاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سانحے نے ذاتی اور مالی دونوں طرح کا نقصان پہنچایا، کیونکہ گھر تباہ ہو گئے تھے اور محنت سے کمائی گئی بچت ضائع ہو گئی تھی۔ حافظ طاہر محمود اشرفی نے زور دیا کہ اس فعل کے ذمہ دار کا تعلق کسی مذہب سے نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئین اور قانونی نظام قرآن و سنت کے ان اصولوں کے مطابق ہےجوغیر مسلموں کے تحفظ اور حقوق کو بھی یقینی بناتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس واقعے سے نمٹنے کے لیے عیسائی اور مسلم کمیونٹیز کے رہنماؤں نے اکٹھے ہو کر 24 رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے، یہ کمیٹی انصاف کو یقینی بنانے کے لیے واقعہ کے تمام پہلوؤں کی تحقیقات کر رہی ہے۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کی تعلیمات پر زور دیا جو امن، بھائی چارے اور اتحاد کی اہمیت کو واضح کرتی ہیں۔
حافظ طاہر محمود اشرفی نے چیف جسٹس آف پاکستان سے درخواست میں جڑانوالہ واقعہ کے فوری ٹرائل کی استدعا کی۔ انہوں نے انصاف کو برقرار رکھنے اور مجرموں کو احتساب کے کٹہرے میں لانے کی ضرورت پر زور دیا۔
ممتاز مسیحی رہنما ڈاکٹر ارشد جوزف نے وفد کا شکریہ ادا کیا اور اس بات پر روشنی ڈالی کہ اس طرح کے واقعات ایک دوسرے کے مذاہب کے احترام اور مذہبی رواداری کو فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہر کمیونٹی ترقی میں اپنا حصہ ڈالتی ہے اور مسیحی برادری ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز نے واقعہ کی مکمل تحقیقات کے لیے ایک مخصوص عدالت کے قیام کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ اس کیس کے فیصلے کی فوری اور تیز رفتار کارروائی کی نگرانی کرنی چاہیے۔
جماعت اسلامی کے رہنما میاں محمد اسلم نے ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لانے تک کوششیں جاری رکھنے کا عزم کیا۔ انہوں نے مسیحی برادری کے ساتھ آزمائش اور مصیبت کی اس گھڑی میں اپنی قیادت کے مالی تعاون کے وعدوں کو پورا کرنے کا وعدہ بھی کیا۔ مسیحی برادی سے اتحاد کے مظاہرے میں دیگر ممتاز مذہبی سکالرز اور سیاسی رہنما بھی موجود تھے۔











