سی اے ایس ایس کیجانب سے سیمینار، بھارت کے سیاسی ماحول، مودی کی دوبارہ منتخب ہونے کی کوشش اور علاقائی استحکام پر اس کے اثرات کا جائزہ لیا گیا

52

اسلام آباد،14ستمبر (اے پی پی):سینٹر فار ایرو سپیس اینڈ سکیورٹی سٹڈیز (سی اے ایس ایس) اسلام آباد نے‘‘انڈین الیکٹورل پولیٹکس: انڈیا کی پری پول ڈائنامکس اینڈ امپلیکشنز فار دی ریجن’’ کے موضوع پر ایک سیمینار کاانعقاد کیا جس  سے جہا نگیر قاضی، سابق ڈائریکٹر سینٹر فار ایرو سپیس اینڈ سکیورٹی سٹڈیز اسلام آباد ایئر مارشل وسیم الدین (ریٹائرڈ) اور اسسٹنٹ پروفیسر قائداعظم یونیورسٹی ڈاکٹر محمد مجیب افضل کے علاوہ سی اے ایس کے مشیر برائے سی اے ایس ایس امور ایئر مارشل اشفاق آرائیں (ریٹائرڈ) اور صدر سی اے ایس ایس اور نگران وزیر اعظم کے مشیر برائے ہوا بازی ایئر مارشل فرحت حسین خان نے بھی خطاب کیا۔

 مقررین نے  بھارت کے سیاسی ماحول، مودی کی دوبارہ منتخب ہونے کی کوشش اور علاقائی استحکام پر اس کے اثرات کا جائزہ لیا۔ بات چیت کے دور میں پاکستان کے لیے ایک کثیر جہتی حکمت عملی کی اہمیت پر زور دیا گیا جس میں سٹریٹجک سفارت کاری، مضبوط فوجی تیاری اورایک توانا اور با اختیار میڈیا کی ضرورت کو اجاگر کیا گیا۔

مقررین نے اس نظریے پر اتفاق کیا کہ انتخابی فوائد کے لیے سکیورٹی کے مسائل سے فائدہ اٹھانے کی  بھارتی روایت کو دیکھتے ہوئے پاکستان کو اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے چوکس اور متحرک رہنا چاہیے۔ اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ جہاں  بھارتی فوجی اشتعال انگیزی بی جے پی کی دوبارہ انتخابی مہم کو تقویت دے سکتی ہے وہیں یہ عمومی طور پر  بھارت کے عام شہریوں کے لیے مشکلات کا باعث بنے گی کیونکہ پاکستان اس کا بھرپور جواب ضرور دے گا۔

سی اے ایس ایس کے سینئر ڈائریکٹر اور سیمینار کے ناظم ایئر مارشل فاروق حبیب (ریٹائرڈ) نےان چیلنجوں پر روشنی ڈالی جن کا پاکستان کو تاریخی طور پر بھارت کا پڑوسی ہونے اور اس کی بالادستی کی پالیسی کی بنا پر سامنا ہے۔ انہوں نے ماضی کے واقعات بشمول ممبئی حملہ اور پلوامہ واقعہ کا حوالہ دیا جن کا مقصد الیکشن میں پاکستان مخالف جذبات کو بھڑکا کر موجودہ بھارتی حکومتوں کو فائدہ پہنچانا تھا۔ مزید برآں، انہوں نے  بھارتی رہنماؤں کے جارحانہ بیانات پر تبصرہ کیا اور سفارتی اور فوجی شعبوں میں ممکنہ کشیدگی کے خدشے کو ظاہر کیا۔ انہوں نے ان کشیدگیوں کو بھڑکانے میں بھارتی میڈیا کے کردار کی طرف بھی اشارہ کیا اور خبردار کیا کہ یہ بی جے پی کے انتخابی بیانیے کے مطابق ہے۔

 سفیر اشرف جہانگیر قاضی نے 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے بارے میں وزیر اعظم مودی کے متوقع نقطہ نظر پر تبادلہ خیال کیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ یقینی طور پر پاکستان کے خلاف سکیورٹی بیانیے کا فائدہ اٹھائیں گے۔ انہوں  نے ماضی کے ان واقعات کو بیان کیا جہاں پاکستان کو  بھارت کے غیر قانونی  زیر تسلط جموں و کشمیر خطے میں حملوں کے لیے مورد الزام ٹھہرایا گیا تھا اور یہ  پیش گوئی کی گئی تھی کہ انتخابات سے قبل اس طرح کے ہتھکنڈوں کو مزید فروغ دیا جائے گا۔ انہوں نے بھارت کی طرف سے گلگت بلتستان جیسے خطوں میں اندرونی مسائل سے فائدہ اٹھانے کی  مزید کوششوں کی  پیش گوئی کی۔ عالمی رد عمل پر غور کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کے لیے مغربی ملکوں کی حمایت کی کمی کو اجاگر کیا اور اس کا سبب بھارت کی بڑھتی ہوئی عالمی ساکھ کو قرار دیا۔

 پاکستان کے سٹریٹجک آپشنز کی وضاحت کرتے ہوئے سفیر اشرف جہانگیر قاضی    نے دلیل دی کہ صرف فعال سفارت کاری ہی بھارتی کشیدگی کا مقابلہ کرنے کے لیے کافی نہیں ہوگی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بھارت کی جانب سے انتخابی فائدے کے لیے سکیورٹی بیانیے کے مبینہ استحصال کے لیے بین الاقوامی بے حسی تب تک برقرار رہے گی جب تک کہ پاکستان اپنے اندرونی حالات کو بہتر نہیں بناتا۔

ایئر مارشل وسیم الدین (ریٹائرڈ) نے پاک بھارت تعلقات کی پیچیدگیوں  بارے تبادلہ خیال  اور بھارت کی طرف سے جھوٹے آپریشن کے ممکنہ خطرات اور نتائج پر زور دیا۔ ماضی سے سبق حاصل کرتے ہوئے اور  بھارت کے سٹریٹجک نقطہ نظر پر غور کرتے ہوئے، انہوں نے خبردار کیا کہ بھارت فوجی تنصیبات پر دہشت گرد حملے سے لے کر عام شہریوں کو نشانہ بنانے تک کوئی بھی پرتشدد کارروائی کر سکتا ہے۔انہوں نے سختی سے کہا کہ جوابی کارروائی کے علاوہ پاکستان کے پاس کوئی آپشن نہیں ۔ انہوں نے پاک فضائیہ (پی اے ایف) کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے اس کی صلاحیتوں اور کسی بھی جارحانہ اقدام کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت پر اعتماد کا اظہار کیا۔ انہوں نے موثر ردعمل کے لیے مشترکہ عسکری حکمت عملی کی اہمیت پر زور دیا۔ قومی سطح پر انہوں نے سیاسی یکجہتی، اقتصادی بحالی اور قومی ہم آہنگی کو دہراتے ہوئے ایک فعال حکمت عملی پر زور دیا۔

ڈاکٹر محمد مجیب افضل نے ٹیلی ویژن، بالی ووڈ اور مختلف ذرائع ابلاغ کے ذریعے ہندو قوم پرست موضوعات کے پھیلاؤ پر روشنی ڈالی۔ مزید برآں ڈاکٹر افضل کے مطابق  پاکستان مخالف جذبات کا بار بار آنے والا موضوع بھارت میں متحرک ہونے کا ایک اہم ذریعہ بن گیا ہے۔انہوں نے انتخابی ادوار میں پاکستان کے خلاف جنگی جنون کے استعمال کے بارے میں پیش گوئی کی۔ڈاکٹر افضل نے پاکستان کو ان حالات میں اعتماد کے ساتھ ایک خود مختار ملک کی حیثیت سے اقدام کرنے پر زور دیا اس کے ساتھ انہوں نے پاکستانی میڈیا پر زور دیا کہ وہ بھارتی میڈیا کے عزائم کو بے نقاب کرے۔

 اپنے اختتامی کلمات میں ایئر مارشل اشفاق آرائیں (ریٹائرڈ) کا خیال تھا کہ  بھارت کی معاشی طاقت اور بین الاقوامی حمایت اور اس کے مقابلے میں پاکستان کی معاشی کمزوری بی جے پی کے ایجنڈے کو فائدہ پہنچا رہی ہے جس کے نتیجے میں ریاست کے زیر انتظام واقعات، تعزیری کارروائیاں اور غلط معلومات کی مہم چلائی گئی۔انہوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ پاکستان کے لیے بہترین حکمت عملی بھارتی اقدام کا مناسب جواب دینا اور اندرونی حالات کو بہتر بنانا ہے۔

 ایئر مارشل فرحت حسین خان (ریٹائرڈ) نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ سی اے ایس ایس اس طرح کے سیمینارز کے ذریعے اہم مسائل پر باخبر گفتگو کو فروغ دیتا رہا ہے۔سٹیک ہولڈرز کو پاکستان اور اس کے پڑوسیوں کے پرامن اور خوشحال مستقبل کے لیے ضروری علم اور حکمت عملی سے آراستہ کرنا سی اے ایس ایس کے فرائض میں شامل ہے۔

سیمینار میں ماہرین تعلیم، مسلح افواج کے ریٹائرڈ افسران، پالیسی سازوں، محققین اور میڈیا کے پیشہ ور افراد سمیت متعدد افراد نے شرکت کی۔