لاہور، 16 ستمبر(اے پی پی): صوبائی وزیر زراعت و صنعت و تجارت ایس ایم تنویر نے کہا ہے کہ زرعی تحقیق کے نظام میں خامیوں کو دورکرکے اسے نتیجہ خیز بنایا جائے گا اور پنجاب ایگریکلچر ریسرچ بورڈ کی خالی آسامیوں پر میرٹ پر باصلاحیت افراد بھرتی کئے جائیں گے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے پنجاب ایگریکلچر ریسرچ بورڈ کے ا جلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔سی ای او پارب ڈاکٹر عابد محمود نے بورڈ کے تنظیمی ڈھانچے، ورکنگ، بزنس ماڈل اور اہداف کے حصول بارے تفصیلی بریفنگ دی۔
صوبائی وزیر زراعت ایس ایم تنویر نے کہا کہ زرعی تحقیق کے حوالے سے دنیا میں رائج ماڈل اپنائے جائیں، زرعی تحقیق کے پراجیکٹ مکمل کرنے والے سائنسدانوں اور ٹیکنالوجی فراہم کرنے والوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کی جائے گی اور زرعی سائنس دانوں کو آزادی سے تحقیق کا کام آگے بڑھانے کے مواقع دیں گے۔انہوں نے کہا کہ زرعی تحقیق کے حوالے سے ریگولیٹری فریم ورک بھی بنانا ہو گا، پنجاب ایگریکلچر ریسرچ بورڈ 940ملین روپے کے 40 تحقیق کے منصوبوں کی. پہلے ہی منظوری دے چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ یونیورسٹیاں اور زرعی تحقیق کے ادارے مربوط انداز میں زرعی تحقیق کے عمل کو آگے بڑھائیں۔
سی ای او پارب نے بتایا کہ پنجاب ایگریکلچر ریسرچ بورڈ 2300ملین روپے کے زرعی تحقیق کے منصوبے مکمل کرچکا ہے۔
سیکرٹری لائیو سٹاک مسعود انور، ڈاکٹر سعید احمد سینئر ریسرچ آفیسر محکمہ جنگلات، خالد محمود کھوکرترقی پسند کاشتکار، وائس چانسلر ایم این ایس یونیورسٹی آف ایگریکلچر ملتان ڈاکٹر آصف علی اور دیگر بورڈ ممبران نے اجلاس میں شرکت کی۔











