پشاور، 20 ستمبر (اے پی پی):گورنرخیبرپختونخوا حاجی غلام علی کی زیرصدارت بدھ کو گورنرہاؤس پشاور میں عبدالولی خان یونیورسٹی مردان کی سینٹ کا15واں اجلاس منعقدہوا۔ اجلاس میں نگران وزیر تعلیم محمد قاسم جان، وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظہورالحق، ایڈیشنل سیکرٹری محکمہ تعلیم جاوید اقبال، محمد ایاز خان ایڈیشنل سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ، پرنسپل سیکرٹری برائے گورنر مظہر ارشاد، ہائرایجوکیشن کمیشن کے نمائندے سمیت سینٹ کے دیگراراکین نے شرکت کی۔
اجلاس میں یونیورسٹی کے گذشتہ اجلاس کے منٹس منظوری کیلئے پیش کئے گئے جوکہ متفقہ طور پر منظور کئے گئے۔ اجلاس میں یونیورسٹی کی ڈرافٹ سٹیٹیوٹس بھی منظوری کیلئے پیش کئے گئے۔ ڈرافٹ سٹیٹیوٹس میں یونیورسٹی کی پاور آف اتھارٹیز، ڈسپلن رولز، منسٹریل سٹاف، فیکلٹی اراکین،انتظامی افسران کی تقرریوں اورپے سکیلز سمیت دیگرامورشامل تھے۔
سینیٹ اراکین نے منظوری کیلئے پیش کئے جانیوالے ڈرافٹ سٹیٹیوٹس پر سیرحاصل گفتگو کی جس میں بالخصوص گریڈ1 سے 16 تک منسٹریل سٹاف کی پروموشن سے متعلق طریقہ کار پر بعض اراکین کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات پرتفصیلی تبادلہ خیال کیاگیا جبکہ TTS اور ریگولر فیکلٹی اراکین کی تعیناتیوں، ترقیوں اور پنشن کے طریقہ کار پربھی تبادلہ خیال کیاگیا۔
وائس چانسلر کا کہناتھاکہ یونیورسٹی کے اسٹیٹیوٹس محکمہ اعلی تعلیم، محکمہ اسٹیبلشمنٹ کی نگرانی میں یونیورسٹی کے انتظامی و تعلیمی معیار کی بہتری کومدنظر رکھتے ہوئے تیار کئے گئے ہیں۔ اجلاس نے بعض اراکین کے اعتراضات، ٹائپنگ کی غلطیوں کو دور/ختم کرنے پریونیورسٹی کے ڈرافٹ سٹیٹیوٹس کی منظوری دے دی۔
اس موقع پراجلاس سے خطاب کرتے ہوئے گورنرحاجی غلام علی نے کہاکہ ہم سب کامشترکہ مقصد بہتری کیلئے آگے بڑھناہے۔ مشاورت اور ایک دوسرے کی رائے سے سیکھنے کا موقع ملتاہے جس سے اجتماعی طور پر کسی بھی ادارے کی بہتری مقصود ہوتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اپنے 10 ماہ کے عرصہ کے دوران تمام یونیورسٹیوں کو مالی وانتظامی مسائل میں گھرا ہوادیکھاہے۔ خواہش ہے کہ اعلیٰ تعلیمی ادارے مسائل ومشکلات کے بھنور سے باہر نکلیں۔ یونیورسٹیوں کو چاہئیے کہ ملازمین کی کارکردگی سے متعلق شکایات کو درج کیاکریں اور پھر وہی شکایات متعلقہ ملازم کو بھجوانی چاہئیے۔ اس ضمن میں طلباء سے بھی رائے لینی چاہئے اور اگر طلباء کی طرف سے لیکچرسے متعلق یا کسی بھی ملازم کی طرف سے کوئی شکایت یا کمی وبیشی ہوتو اس کو بھی دیکھناچاہئیے یہ ایک ایسی مشق ہوگی جو یونیورسٹی کی مجموعی کارکردگی کو بہتر بنائیگی۔
انہوں نے یونیورسٹیوں کے پنشن مسائل سے متعلق کہاکہ تمام یونیورسٹیوں کو چاہئیے کہ وہ پنشن واجبات کیلئے انشورنس کمپنیوں کے ساتھ ملکر کوئی بہتر نظام تشکیل دیں اس سے نہ صرف کسی بھی ملازم کی ریٹائرمنٹ کے بعد بلکہ اس سے دوران سروس وفات یا بیماریوں سے متعلق بھی مالی مدد حاصل ہوگی اور یونیورسٹیوں پر پنشن کا بوجھ بھی کم ہوگا۔
گورنرنے کہاکہ یونیورسٹیوں کی بہتری کیلئے پہلے ہم اکیلے کوشش کررہے تھے لیکن اب اللہ کے فضل وکرم سے نگران صوبائی وزیر تعلیم محمدقاسم جان جوکہ ایک تجربہ کار ماہرتعلیم اور سابقہ و ی سی بھی ہے، ٹیم کا حصہ ہے۔
نگران صوبائی وزیرتعلیم نے اس موقع پر یونیورسٹیوں کو بحران سے نکالنے اور تعلیمی معیارکی بہتری کیلئے گورنرکی کاوشوں کو سراہا۔











