چترال کی وادی بھیستی، دنیا کی نظروں سے اوجھل بہترین سیاحتی مقام

199

چترال رقبے کے لحاظ سے خیبر پختون خواہ کا سب سے بڑا ضلع ہے،یہ ایک سیاحتی ضلع ہے اوریہاں اب بھی ایسے خوبصورت مقامات موجود ہیں جو ابھی تک حکام اور سیاحوں کے ساتھ ساتھ میڈیا کی نظروں سے بھی اوجھل رہے ہیں۔ وادی بھیستی کے لوگوں کا گرمائی چراہ گاہ رشو بینی بھِی ان سیاحتی مقامات میں سے ایک ہے ۔ یہ جگہ سطح سمندر سے تیرہ ہزارپانچ سو فٹ کی بلندی پر واقع ہے،یہاں ہر طرف ہریالی اور جنگلی پھول نکلے ہوئے ہیں۔ پہاڑوں کے دامن سے قدرتی چشموں میں نہایت ٹھنڈا اور صاف پانی نکلتا ہے۔ یہ پانی ایک نہر کی شکل میں  نیچھے بہتا ہے جس کی چوڑائی بارہ فٹ ہے۔ مقامی لوگ جب بھِی یہاں سیر کیلئے  آتے ہیں تو اس نہر سے اس پار چھلانگ لگانے کے مقابلے ضرور کرتے ہیں۔

وادی بھیستی  میں ہر طرف قدرتی طور پر سبز گھاس   ہیں اور یوں لگتا ہے کہ کسی نے یہاں سبز قالین بچھایا ہے۔ رشوبینی جاتے وقت راستے میں ہر طرف سبز درخت، جنگل اور پہاڑوں سے نکلنے والے صاف پانی کے چشموں کی بہتات نے اس وادی کی حسن میں مزید اضافہ کیا ہوا ہے۔

سطح سمندر سے ساڑھے تیرہ ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ہونے کے ناطے یہاں آنے میں ضرور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے مگر جب انسان یہاں پہنچ جا ئے  تو ان حسین مناظر کو دیکھ کر سب کچھ بھول جاتا ہے۔یہاں کافی پر سکون ماحول ہیں ارد گرد موسمی پرندوں کی چہچہانے کی اور بہتے پانی کی آواز سے نہایت پرسرور موسیقی جیسی آواز نکل کر انسان کو مسحور کرتا ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ماضی میں ہم اپنے بیل گائے یہاں لاکر چراتے تھے اور یہ ہمارا گرمائی چراہ گاہ تھی ، یہاں مقامی خواتین بھی آیا کرتی تھی اور لوگ سیر وسیاخت  کیلئے اپنے اہل خانہ کے ساتھ یہاں آکر لطف اندوز ہوتے تھے مگر آجکل یہاں اس پاس پہاڑوں میں سے زمرد نکالنے  کیلئے  غیر مقامی لوگوں کی نقل و حرکت زیادہ ہونے کی وجہ سے اب خواتین یہاں نہیں آیا کرتی ہیں۔

 جب انسان پہلی بار یہاں پہنچ جاتا ہے تو  یہاں  کو  جنت  کے  منظر  سے تشبیہ دیتا ہے ، مگر راستوں کی خرابی کی وجہ سے یہ جنت نظیر وادی ابھی تک حکام اور سیاحوں کے ساتھ ساتھ میڈیا کی نظروں سے بھی اوجھل رہا ہے۔

مقامی لوگوں   میں سے  ایک

مرزا ولی  یہاں کے مقامی ہیں  ان کا کہنا ہے کہ ہم جوانی میں یہاں آیا کرتے تھے اور یہاں آکر اس نہر سے اس پار چھلانگ لگانے کا مقابلہ بھی کرتے تھے جس کی چوڑائی بارہ فٹ ہے یہاں ہم اکثر گرمیوں میں سیر کرنے آیا کرتے تھے اور رات کو  خیمہ  لگا کر یہاں قیام  کرتے تھے  ۔

 مقامی لوگوں  کا کہنا ہے محکمہ سیاحت دعویٰ کرتی ہے کہ وہ سیاحت کو فروغ دینے  کیلئے  کروڑوں روپے خرچ کرتی ہے مگر بدقسمتی سے یہ سیاحتی مقام ابھی تک انہوں نے نظر انداز کیا ہوا ہے۔ یہاں کے لوگ وفاقی اور صوبائی حکومت کے محکمہ سیاحت کے ارباب احتیار سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس خوبصورت علاقے میں بھِی سیاحت کو ترقی دینے کیلئے یہاں   راستے بنائے  جائیں  اور یہاں کوئی روایتی کھیلوں کا ٹورنمنٹ منعقد کرایا جائے  تاکہ یہ علاقہ بھی سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنے اور یہاں سیاحت کو فروغ دینے سے اس پسماندہ علاقے سے بھی غربت اور بے روزگاری کا خاتمہ ہوسکے۔