چترال ؛ تاریخی قصبے دروش میں دریا پر اوسیک پل کی تعمیر سے ہزاروں لوگوں کی مشکلات آسان ہوگئیں

44

چترال ،11 اکتوبر( اے پی پی ): چترال کے تاریخی قصبے دروش میں دریا پر اوسیک پل کی تعمیر سے ہزاروں لوگوںکی مشکلات آسان ہوگئیں،دریائے چترال پر آر سی سی پل کی تعمیر مکمل ہوگئی ہے ۔ اس سے پہلے اوسیک میں دریا پر لکڑیوں کا بنا ہوا ایک پرانا پل تھا لکڑیاں بوسیدہ ہونے کے باعث جو نہایت خطرناک بن چکا تھا ۔ اسی جگہ ماضی میں متعدد حادثات پیش آنے کے باعث کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ اوسیک میں دریا سے اس پار افغانستان کے سرحد تک درجنوں دیہاتوں میں ہزاروں لوگ رہائش پذیر ہیںلیکن اس دریا پر مضبوط پل نہ ہونے کی وجہ سے پبلک ٹرانسپورٹ و دیگر گاڑیاں چلنا ممکن نہ تھا اور عوام کوپیدل جانے و سامان آر پار لے جانے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا ۔

 اب اس دریا پر سیمنٹ کامضبوط پل بن چکا ہے اس باعث اب رہائشی عوام بھاری سامان ،پبلک ٹرانسپورٹ و دیگر گاڑیوں سے باآسانی لے جاسکیں گے۔محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے ایگزیکٹیوانجینئر طارق مرتضیٰ کے مطابق اس پل کی لمبائی بانوے میٹر، چوڑی سات میٹر اور اونچائی تیرہ میٹر ہے ۔ یہ پل ایک سو دو ملین کے لاگت سے تعمیر ہوا۔ اس پل کاٹینڈر 2016 ءمیں منظور ہوا تھا مگر اس کا راستہ ایک سرکاری باغ میں سے گزرنے کی وجہ سے رکاوٹ بنا ہوا تھا، اب اس کا راستہ وہاں سے جانے کی بجائے اسے موڑ کر پل کی دائیں جانب سے گزارا گیا ہے ۔ اس پل کی تعمیر پر علاقے کے لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور وہ اپنی خوشی کا اظہار کررہے ہیں۔

قاری جمال ناصر، آفتاب احمد خان،محمد احتشام ایڈیشنل چیف وارڈن سول ڈیفنس، مولانا خان شیرین اور دیگر لوگوں نے ہمارے نمائندے سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اس پل کی تعمیر سے یہاں کے ہزاروں لوگوں کی زندگی میں اب آسانی پیدا ہوگی جو اس دریا آر پار رہتے ہیںکیونکہ ماضی میں یہاں کے لوگ اپنا سامان جب گھر لے جاتے تو اس پرانے پل پر مال بردار گاڑی نہیں گزرسکتی تھیں اور لوگ سامان اتار کر کندھوں پر اٹھا کرلے جانے پر مجبور تھے۔

 اب چونکہ مضبوط پل بن گیا ہے تو اس علاقے میں جو بہت زیادہ معدنیات، جنگلات اور دیگر قدرتی وسائل موجود ہیں ان کو نکالنے کیلئے بھاری مشینری بھی آجاسکے گی ۔

تعمیراتی کمپنی کے نمائندے اسمار خان نے بتایا کہ اب اس میں تھوڑا سا کام باقی ہے، چونکہ یہ پل دریا پر بنا ہے مگر یہاں آنے والی سڑک بہت اونچائی سے آئی ہوئی ہے ، اب اس سڑک کے کنارے حفاظتی دیوار اور سڑک پر شولڈر بھی بنیں گے تو اس سے یہ سڑک اور پل نہایت محفوظ ہوجائیں گے ، لوگ بغیر کسی خطرے کے اس پر سفر کرسکیں گے۔

 اس علاقے کے عمائدین نے بھی ٹھیکیدار اسمار خان کی بے حد تعریف کی کہ انہوں نے نہایت ایمانداری سے کام کیا اس سے پہلے جس ٹھیکیدار نے اس کا ٹھیکہ لیا تھا اس نے کام شروع ہی نہیں کروایا تھا اور اس لالچ میں تھا کہ اس کے نرخ مزید بڑھیں گے زیادہ فائدہ اٹھایا جاسکے گا ۔اس باعث محکمہ کمیونیکیشن اینڈ ورکس یعنی سی اینڈ ڈبلیو نے اس کا سیکورٹی فنڈ ضبط کرلیا ۔

اوسیک کے مقام پر دریایے چترال پر اس پل کی تعمیر ہونے سے اب سیاح بھی باآسانی سے وادی جنججیریت کوہ میں صدیوں پرانے تاریخی مقامات اور قلعے دیکھنے کیلئے اس پر بغیر کسی خطرے کے سفر کرسکیں گے ، جس سے سیاحت فروغ پائے گی سیاحت کے فروغ پانے سے یہ علاقہ بھی ترقی کرسکے گا۔