چترال،14 اکتوبر( اے پی پی ): ضلع اپر چترال کے جنت نظیر وادی ریشن کو سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچانے کیلئے حفاظتی دیواریں اور شیلٹر ہوم کی تعمیر مکمل ہوگئی ۔
ضلع اپر چترال کی خوبصورت وادی ریشن جو گزشتہ13 برسوں سے سیلاب کی ضد میں ہے یہاں برفانی گلیشیرز سے برفانی تودے گرنے ،پگھلنے وٹوٹنے سے اچانک سیلاب آجاتا ہے ۔جس کے باعث یہاں کی عوام کو بڑے پیمانے پر مالی و جانی نقصانات اٹھانے پڑے ہیں۔2015 ءمیں جو تباہ کن سیلاب آیا جس سے نہ صرف ریشن میں رابطے کا واحد پل تباہ ہوا بلکہ پشاور چترال کی مین شاہراہ بھی سیلاب کی زد میں آکر تباہی کا شکار ہوئی علاوہ ازیں اس تباہ کن سیلاب سے کئی مکانات، دکانیں، زیر کاشت زمینیں، کھڑی فصلیں اور پھلدار درختوں کے باغات بھی تباہ ہوئے ۔ سیلاب کی تباہ کاری کی وجہ سے یہاں سے متعدد متاثرین سیلاب بے گھر ہوکر دوسری جگہوں پر پناہ لینے پر مجبور ہوئے ۔
ریشن کے اوپر صدیوں پرانے برفانی تودے موسم گرما میں گرمی کی وجہ سے اچانک پگھل، پھٹ جاتے ہیں جس کی وجہ سے بغیر بارش یا پیشگی اطلاع کے سیلاب آتا ہے۔ اس خوبصورت علاقے کو سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچانے کیلئے محکمہ سول اینڈ واٹر کنزرویشن نے ریشن کے برساتی نالے میں حفاظتی دیواریں تعمیر کیں تاکہ اس علاقے کو مزید نقصان سے بچایا جاسکے۔ اسی جگہ گورنمنٹ ہائی سکول کا ہال اور لیبارٹری بھی سیلاب کی وجہ سے تباہ ہوئے۔
یہاں کے رہائشیوں کو سہولیات پہنچانے کیلئے ایک ایسا ہال بھی تعمیر کرایا گیا جسے علاقے کے لوگ ضرورت کے مطابق کمیونٹی ہال کے طور پر استعمال کرسکیں ،ان تعمیراتی کاموں کیلئے گلوف ٹو پراجیکٹ کے ذریعے یونایٹڈ نیشن ڈویلپمنٹ پروگرام نے فنڈ زفراہم کئے ۔ محکمہ سول اینڈ واٹر کنزرویشن نے یہ کام صرف تین ماہ کے قلیل مدت میں مکمل کیا، ترقیاتی کاموں کا معائنہ کرنے اور اس کا افتتاح کرنے کے بعد یو ای ڈی پی کے ریذیڈنٹ ریپریزنٹیٹیو ڈاکٹر سمویل ریزک اور یو ای ڈی پی کے خاتون کنٹری ڈائریکٹر نے اس کام کو بہت سراہا۔
انہوں نے کمیونٹی ہال کے سامنے پودے بھی لگائے، اس موقع پر سول اینڈ واٹر کنزرویشن کے ڈائریکٹر جنرل محمد یاسین خان وزیر،محکمہ جنگلات اور گلوف ٹو کے نمائندے بھی موجود تھے، گلوف ٹو پراجیکٹ کے صوبائی نمائندے شہزادہ اقتدارالملک نے یو ای ڈی پی کے نمائندگان کو بریفنگ دی۔
ان مہمانوں نے ریشن میں اس تباہ شدہ مقامات کا بھی دورہ کیا جوآٹھ برس قبل سیلاب کی وجہ سے مکمل طور پر تباہ ہوئے اور پشاور چترال سڑک بھی سیلاب کی وجہ سے تباہ ہوگئی تھی جس کے بعد نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے گاﺅں میں متبادل راستہ بنوایا، اس سلسلے میں ریشن میں ایک تقریب بھی منعقد ہوئی جس میں علاقے کے لوگوں نے سپاسنامہ پیش کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ریشن جو بار بار سیلاب کی ضد مِیں آتا ہے اسے سیلاب سے محفوظ کرنے کیلئے کوئی دیرپا منصوبہ منظور کیا جائے۔
یو این ڈی پی کے ریذیڈنٹ نمائندے نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ میں نے ریشن کے خوبصورتی کے بارے میں جو کچھ سنا تھا اسے اپنی انکھوں سے دیکھنے کا موقع ملا، انہوں نے کہا کہ سیلاب کی تباہ کاری کو دیکھ کر مجھے بہت افسوس ہوا اور اقوام متحدہ کا ترقیاتی پروگرام آپ کو کبھی مایوس نہیں کرے گا اور نہ آپ کو بے یارومدد گار چھوڑے گا۔ اس موقع پر مہمانوں کو چترال کے روایات کے مطابق چوغہ اور پکول پہنائے گئے جب کہ اقوام متحدہ کی خاتون نمائندہ جس کا تعلق روس سے ہے ان کو روایتی ٹوپی پیش کی گئی۔
یو این ڈی پی کے ٹیم نے ریشن میں بجلی گھر کا بھی دورہ کیا جو 2015 ءکے سیلاب میں مکمل طور پر تباہ ہوا تھا،اس حوالے سے انہوں نے ہمارے نمائندے سے خصوصی بات چیت کی۔
ڈائریکٹر جنرل سول اینڈ واٹر کنزرویشن کے اعزاز میں ریشن کے لوگوں نے بادشاہوں کا کھیل یعنی پولو کا ایک میچ بھی کرایا۔ ڈی جی محمدیاسین خان وزیر نے کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کئے۔ علاقے کی عوام نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے پہلے ان کی زندگی ہر وقت خطرے سے دوچار تھی مگر اب ان حفاظتی دیواروں کی تعمیر سے وہ سکون کی نیند سوکر زندگی بسر کریں گے۔
یاسین وزیر نے علاقے کے لوگوں کو یقین دہانی کرائی کہ ان کی کوشش ہوگی کہ جتناممکن ہوسکے چترال میں بنجر زمینوں کوآباد کرنے کے ساتھ ساتھ زیر کاشت زمینوں کو بھی سیلاب اور دیگر قدرتی آفات کے نقصانات سے بچایا جاسکے۔ تقریب میں کثیر تعداد میں علاقے کے خواتین و حضرات نے شرکت کی۔











