کوئٹہ،15 اکتوبر(اے پی پی): بے گناہ مزدوروں کے قتل پر بلوچستان کا ہر فرد رنجیدہ ہے ،سوگوار خاندانوں کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں ،قیمتی انسانی جانوں کا کوئی نعم البدل نہیں تاہم تمام شہید مزدوروں کے ورثاءاور زخمیوں کو حکومت بلوچستان کی جانب سے معاوضہ کی جلد ادائیگی یقینی بنائی جائے گی۔ بے گناہ مزدوروں کا قتل سفاکیت کی انتہاء ہے ملوث عناصر کو کیفرِ کردار تک پہنچائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار نگران وزیراعلیٰ بلوچستان میر علی مردان خان ڈومکی نے خالد ایئر بیس پرمزدوروں کی میتوں کو ملتان روانہ کرتے ہوئے کیا ۔
تربت میں قتل ہونے والے چھ مزدوروں کی لاشیں آج صبح حکومت بلوچستان کے خصوصی ہیلی کاپٹر کے ذریعے ملتان روانہ کردی گئیں۔ اس موقع مزدوروں کی مغفرت کے لیے دعا بھی کی گئی ائیر بیس پر نگران وزیر اعلیٰ بلوچستان میر علی مردان خان ڈومکی نے شہید ہونے والے مزدوروں کے ورثاء سے ملاقات کی اور واقعہ پر افسوس اور تعزیت کا اظہار کیا۔
ڈپٹی کمشنر کیچ حسین جان بلوچ نے نگران وزیر اعلیٰ بلوچستان کو واقعہ کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ جاں بحق مزدور گزشتہ کئی سالوں سے تربت میں کام کررہے تھے اور ان کا تعلق ملتان و گرد و نواح سے ہے، واقعہ کے بعد ضلع بھر میں سکیورٹی انتظامات کو مزید سخت کر دیا گیا ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ملکر اس واقعہ کی تحقیقات کررہے ہیں ۔
ڈپٹی کمشنر کیچ نے بتایا کہ ضلع بھر میں کام کرنے والے مزدوروں کی پروفائلنگ شروع کر دی گئی ہے اور حتمی ڈیٹا ایک ہفتے میں مرتب کرلیا جائے گا، بعد ازاں حکومت بلوچستان کا ہیلی کاپٹر ڈپٹی کمشنر کیچ حسین جان بلوچ کے ہمراہ چھ مزدوروں کی لاشوں دو لواحقین کو لیکر ملتان روانہ ہوگیا اس موقع پر کمشنر کوئٹہ ڈویژن حمزہ شفقات ، ڈپٹی کمشنر کوئٹہ لیفٹیننٹ (ر) سعاد بن اسد بھی موجود تھے۔











