کوئٹہ ،19اکتوبر (اے پی پی): نگران وفاقی وزیر تعلیم مددعلی سندھی نے کہاکہ ملک میں سب سے زیادہ بلوچستان میں بچے سکولوں سے باہر ہیں،پچاس سال کی مسائل ایک دن میں حل نہیں کرسکتے لیکن وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ صوبے میں معیاری تعلیم کے فروغ کے لیے ہرممکن اقدامات اٹھائے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے سردار بہادر خان وومن یونیورسٹی میں طالبات میں لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
نگران وفاقی وزیر تعلیم مدد علی سندھی نے کہا کہ بلوچستان کے طلباءکے مسائل کو محسوس کیا ماضی کے حکومتوں نے تعلیم پر زیادہ توجہ نہیں دی اور نہ ہی اس کے لیے فنڈ ز رکھے، ہماری کوشش ہے کہ بلوچستان جامعات کے مسائل کے لیے سنجیدگی سے اقدامات کئے جائیں گے ، اس وقت بلوچستان میں سب سے زیادہ بچے سکولوں سے باہر ہیں، اگرچہ اٹھارویں ترمیم کے بعد یہ تعلیم کا شعبہ صوبے کے پاس چلا گیا مگر اس کے باوجود وفاقی اپنی پوری ذمہ داری ادا کریگی کہ صوبے کی معیاری تعلیم کی فروغ کو یقینی بنائے۔
انہوں نے کہاکہ ہم عہد کرتے ہیں کہ تمام صوبوں میں تعلیم کے لئے ایک ایسی پالیسی بنائے گئے جو آنے والے حکومتوں کے لیے بھی مشعل راہ ہو،انہوں نے کہاکہ صوبے کے تعلیمی اداروں کے مسائل کے حوالے سے وزیراعظم کو بھی آگاہ کرونگا تاکہ صوبے میں تعلیم کو زیادہ سے زیادہ فروغ دیا جاسکے۔
انہوں نے کہاکہ خضدار اور پشین کیمپس کے لیے 50کروڑ روپے جاری کردیاگیا ہے جس سے یونیورسٹی میں معیاری تعلیم میں مزید بہتری آئی گئی تقریب کے آخر میں نگران وفاقی وزیر تعلیم نے طالبات میں لیپ ٹاپ تقسیم کئے۔











