اسلام آباد،17نومبر(اے پی پی):خاتون اول بیگم ثمینہ علوی نے ہسپتالوں، غیر سرکاری تنظیموں اور سول سوسائٹی پر زور دیا ہے کہ وہ میڈیکل کے نظام میں سکریننگ کی بہتر سہولیات پر کام کریں تاکہ خواتین میں چھاتی کے کینسر کا ابتدائی مراحل میں پتہ چل سکے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو یہاں ایوان صدر میں چھاتی کے کینسر سے متعلق آگاہی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریب معروف انٹرنیشنل ہسپتال کی جانب سے اور نیشنل پریس کلب کے تعاون سے منعقد کی گئی تھی، تقریب میں چھاتی کے کینسر کے خلاف طویل مدتی اور وسیع پیمانے پر مہم کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا تاکہ ملک میں ہر سال خواتین کی 40 ہزار اموات کی تشویشناک حد تک کی تعداد میں کمی کی جاسکے۔
بیگم ثمینہ علوی نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ ایوان صدر کے پلیٹ فارم سے ان کی مسلسل مہم سے پہلے اور دوسرے مرحلے میں چھاتی کے سرطان کے کیسز کی رپورٹنگ کو بڑھانے میں مدد ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جلد تشخیص سے ملک میں ہزاروں خواتین کی زندگیاں بچائی جاسکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میموگرام اور الٹرا سائونڈ کے ذریعے جلد تشخیص سے مریضوں کی اموات کی شرح میں 98 فیصد تک کمی لائی جاسکتی ہے۔
بیگم ثمینہ علوی نے کہا کہ چھاتی کے کینسر سے متعلق آگاہی مہم کے ایک حصے کے طور پر پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے سیلولر سروسز کے ذریعے اردو زبان میں 140 ملین ٹیکسٹ میسجز اور رنگ ٹونز بھیجے۔ انہوں نے کہا کہ جاری کردہ پیغامات میں عام لوگوں کے لیے چھاتی کے کینسر، اس کی علامات، خود معائنہ اور بروقت علاج کے بارے میں معلومات شامل تھیں۔ انہوں نے خواتین پر زور دیا کہ وہ ماہانہ بنیادوں پر پانچ منٹ خود معائنہ کرنے کی مشق کریں اور کسی بھی غیرمعمولی صورتحال کا پتہ لگانے کے لیے فوری طور پر طبی مشورہ لیں۔
خاتون اول نے معروف انٹرنیشنل ہسپتال کی جانب سے چھاتی کے کینسر کی تشخیص کے لیے 31 دسمبر تک رعایتی میموگرامز اور الٹراسائونڈز کی سکریننگ کی سہولیات کی پیشکش کی تعریف کی اور کہا کہ دیگر ہسپتالوں کو بھی اس کی پیروی کرنی چاہئے۔
انہوں نے قومی اور مقامی میڈیا پر بھی زور دیا کہ وہ سال بھر مستقل بنیادوں پر اپنے پروگراموں کے ذریعے اس مہلک بیماری کو اجاگر کرتے رہیں۔
اس موقع پر معروف انٹرنیشنل ہسپتال کے سی ای او ہارون نصیر نے کہا کہ خاتون اول کی سرپرستی میں آگاہی مہم کے نتیجے میں چھاتی کے کینسر کے مریضوں کے رپورٹ ہونے والے کیسز کی تعداد میں اضافہ ہوا، اس طرح اموات کی شرح میں کمی آئی۔ انہوں نے اپنے ہسپتال میں سکریننگ کی سہولیات کے ذریعے چھاتی کے کینسر سے متعلق آگاہی پروگرام کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
نیشنل پریس کلب کی فنانس سیکرٹری نیئر علی نے کہا کہ صحافتی برادری ٹیلی ویژن پروگراموں اور مضامین کے ذریعے چھاتی کے کینسر کے بارے میں شعور اجاگر کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
اس موقع پر ایک پینل ڈسکشن کا انعقاد بھی کیا گیا جس میں آنکولوجی، ریڈیالوجی اور گائناکالوجی کے شعبہ جات کے ڈاکٹروں نے جلد سکریننگ کی اہمیت کے بارے میں بتایا۔طبی ماہرین نے خواتین کے لیے مناسب رہنمائی پر زور دیا کہ وہ اپنا خود معائنہ کرکے طبی مشورے کے لئے کیسے رجوع کرسکتی ہیں۔
پینل نے 40 سال سے زیادہ عمر کی خواتین کے لیے سکریننگ اور میموگرام کی بھی سفارش کی گئی۔











