نگراںوزیراعلیٰ بلوچستان کا وزارت پلاننگ ڈویلپمنٹ اینڈ اسپیشل انیشیٹیو و ڈویلپمنٹ پارٹنرز کے اجلاس سے خطاب

24

 

کوئٹہ، 29 نومبر ( اے پی پی )بلوچستان میں سیلابی تباہ کاری کے بعد بحالی منصوبوں سے متعلق وزارت پلاننگ ڈویلپمنٹ اینڈ اسپیشل انیشیٹیو کی اسٹیرنگ کمیٹی کا قومی اجلاس بدھ کو اسلام آباد میں منعقد ہوا جس کی صدارت نگران وفاقی وزیر پلاننگ ڈویلپمنٹ اینڈ اسپیشل انیشیٹیو محمد سمیع سعید اور شریک صدارت نگران وزیراعلیٰ بلوچستان میر علی مردان خان ڈومکی نے ویڈیو لنک کے ذریعے کی۔

 ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات و منصوبہ بندی بلوچستان عبدالصبور کاکڑ، سیکرٹری خزانہ بابر خان، پرنسپل سیکرٹری ٹو سی ایم راشد رزاق، سپیشل سیکرٹری اسفندیار بلوچ بھی اجلاس میں آن لائن شریک رہے، اجلاس میں ”کوچئیر ”سے بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ اضلاع کے لئے وفاقی حکومت کی جانب سے اعلان کردہ بحالی گرانٹ اور ورلڈ بینک پروجیکٹ پر بلا تاخیر عمل درآمد کا مطالبہ کیا گیا جبکہ متاثرہ اضلاع میں مکمل اور جزوی متاثرہ مکانات کے معاوضے میں اضافے کی تجویز کی حمایت متاثرین کی تعداد میں کمی نہ کرنے کی شرط پر کی گئی کاسٹ بریک اپ آف امبریلا پی سی ون کے تحت تجویز کردہ منصوبوں سے متعلق بلوچستان کا موقف بیان کرتے ہوئے شریک نگران وزیراعلیٰ بلوچستان میر علی مردان خان ڈومکی نے کہا کہ سال 2022 کے بدترین سیلاب سے صوبے کا تقریباً ہر ضلع متاثر ہوا اور صحت و تعلیم کے ادارے کچے مکانات سمیت مواصلاتی نظام تباہی کا شکار ہوئے ، صوبے میں 50 سے زائد پل مکمل یا جزوی طور پر منہدم ہوئے، سیلاب سے متاثرہ افراد کی امداد و بحالی کے لئے گزشتہ سال وفاق کی جانب سے 10 ارب روپے کے امدادی پیکیج کا اعلان کیا گیا تھا تاہم اعلان کردہ گرانٹ تاحال بلوچستان کو نہیں ملی۔

 نگران وزیراعلیٰ بلوچستان نے اجلاس میں زور دیا کہ ایکنیک(ECNEC) کی جانب سے متاثرہ اضلاع میں مختلف شعبوں کی بحالی کے لئے 400.00 ملین روپے کے منظور شدہ فنڈز کے جلد اجراءکو یقینی بنایا جائے اور ورلڈ بینک پروجیکٹ کے تحت بحالی منصوبوں پر بلا تاخیر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔

 اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نگران وفاقی وزیر پلاننگ ڈویلپمنٹ اینڈ اسپیشل انیشیٹیو محمد سمیع سعید نے نگران وزیراعلیٰ بلوچستان میر علی مردان خان ڈومکی کے موقف کو درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جن مسائل اور رکاوٹوں کی نشاندہی کی ہے وہ حقیقت پر مبنی ہیں ،ورلڈ بنک بحالی پروگرام پر عمل درآمد میں تاخیر پروجیکٹ ڈائریکٹر کی عدم تعیناتی کے باعث ہوئی تاہم اب منصوبوں پر عمل درآمد کے لئے قابل عمل حکمت عملی مرتب کرلی گئی ہے جس کے بعد ب بلوچستان میں ورلڈ بینک بحالی پروجیکٹس پر جلد کام شروع کر دیا جائے گا، وفاقی حکومت ورلڈ بینک کے بحالی منصوبوں پر عمل درآمد کے لئے بلوچستان حکومت سے ہر ممکن تعاون کرے گی۔

 اجلاس میں وفاقی حکومت اور محکموں کے متعلقہ اعلیٰ حکام اور ڈویلپمنٹ پارٹنرز کے نمائندوں نے بھی شرکت کی اور سندھ و بلوچستان میں بحالی منصوبوں کی پیش رفت سے متعلق بریفنگ دی اور امبریلا پی سی ون کی پیشرفت سے آگاہ کیا۔