قائد اعظم محمد علی جناح ، بطور وکیل ہمارے لئے رول ماڈل

323

 

اسلام آباد، 24 دسمبر(اے  پی پی):قائد اعظم محمد علی جناح  اپنے کردار، اخلاق، ذہانت اور قائدانہ صلاحیتوں کی بنا پر ہمارے لیے تو ایک رول ماڈل کی حیثیت رکھتے ہی ہیں لیکن بطور وکیل بھی انہوں نے اس پیشے میں نئی راہیں اور اصول متعارف کروائے جو ان کی شخصیت اور کردار کی مضبوطی اور اپنے پیشے سے ان کی وابستگی کا مظہر ہیں۔

وکیل کی حیثیت سے قائد اعظم محمد علی جناح اپنے پیشے کے ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل کرتے تھے،آپ کے کردار میں اعلیٰ فکر، غیر معمولی ذہانت اور حاضر دماغی کے ساتھ ساتھ قناعت صبر و استقلال اور تحمل بھی موجود تھا ۔ اپنے شعبے میں انہوں نے کبھی اصولوں، پیشے کے احترام اور عزت نفس پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔

قائد اعظم نے وکالت کی تعلیم لنکنز ان سے حاصل کی۔ ہندوستان واپس آنے کے بعد ممبئی سے اپنی وکالت کا آغاز کیا،1907 میں انہوں نے بطور وکیل کاوکس کا مقدمہ لڑا جو ایک سیاسی جماعت کا نمائندہ تھا،اس مقدمے میں آپ کے ماہرانہ کمال نے جناح کو بطور وکیل شہرت کی بلندیوں پر پہنچایا۔

آپ کی شہرت سے متاثر ہوتے ہوئے ہی 1905 میں بال گنگا دھر تلک نے جناح کی خدمات بطور دفاعی مشیر قانون حاصل کی تاکہ وہ ان پر سلطنت برطانیہ کی جانب سے دائر کیے گئے نقص امن کے مقدمے کی پیروی کریں، موکل کے حق میں دلائل دیتے ہوئے قائدا اعظم نے کہا کہ ایک ہندوستانی اگر اپنے ملک میں آزاد اور خود مختار حکومت کے قیام کی بات کرتا ہے تو یہ نقص امن یا غداری کے زمرے میں نہیں آتا ۔

ایک دوسرے موقع پر ہائی کورٹ میں بحث کے دوران قائداعظم کے انداز خطابت میں کسی قدر ترشی اور سختی آگئی جس کے رد عمل میں جج صاحب نے کہا مسٹر جناح اپ اس وقت کسی تیسرے درجے کے جج کی عدالت میں خطاب نہیں کر رہے قائد اعظم نے برجستہ جواب دیا جناب آپ کے سامنے بھی کوئی تیسرے درجے کا وکیل نہیں کھڑا۔

قائد اعظم کی ذاتی زندگی ہو یا پیشہ وارانہ مصروفیات ،ان کی قائدانہ صلاحیتیں ہوں یا ان کا اخلاق اور کردار۔۔۔  ان کی شخصیت کا ہر پہلو ہمارے لیے ایک ایسا نمونہ ہے جس کی تقلید ہماری زندگی میں کامیابی اور آئیڈیل شخصیت کی تعمیر کے لیے معاون ثابت ہو سکتی ہے۔