اسلام آباد،29دسمبر (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس سینیٹر ولید اقبال کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہائوس میں ہوا جس میں موجودہ آئینی قوانین، آئین پاکستان اور عدالتی قوانین کے تحت سرعام پھانسی دینے کے اہم مسئلے پر غور کیا گیا۔تفصیلی غور و خوض کے بعد کمیٹی اراکین کی اکثریت نے کسی بھی ایسی قانونی ترمیم کی مخالفت کی جس میں سرعام پھانسی کی سزا کا مطالبہ کیا گیا ہو۔اس سلسلے میں کمیٹی نے اکثریتی ارکان نے کہا کہ آئین کی طرف سے ضمانت دیئے گئے بنیادی حقوق اور قابل اطلاق قوانین کے پیش نظر ، کسی بھی ایسی قانونی ترمیم کی مخالفت کی جائے جس میں سرعام پھانسی کا مطالبہ کیا گیا ہو۔
کمیٹی نےایوان سے بھی اپیل کی کہ ایسی کسی بھی مجوزہ ترمیم کو مسترد کر دیا جائے ۔ البتہ دو سینیٹرز ڈاکٹر مہر تاج روغانی اور ڈاکٹر ہمایوں مہمند نے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ کمیٹی نے سرعام پھانسی کے ممکنہ اثرات کے بارے میں کوئی مناسب تحقیق اور معلومات حاصل کیے بغیر جلد بازی میں اس معاملے پر فیصلہ کیا ہے۔اجلاس کے دوران کمیٹی نے سیکرٹری وزارت انسانی حقوق اور سیکرٹری قومی کمیشن برائے انسانی حقوق سے سرعام پھانسی کے موضوع پر بریفنگ حاصل کی۔
بریفنگ میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے 1994 میں دیئے گئے ایک فیصلے پر روشنی ڈالی گئی تھی جس میں سرعام پھانسی دینے کو انسانی وقار کی خلاف ورزی قرار دیا گیا تھا ۔ کمیٹی کو وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے سے بھی آگاہ کیا گیا جہاں قرآنی تعلیمات کی روشنی میں انسانی وقار کو برقرار رکھنے کے معاملے کی توثیق کی گئی۔
بریفنگ میں مختلف بین الاقوامی کنونشنز پر بھی زور دیا گیا جن کی پاکستان نے توثیق کی اور ملکی قانون کا حصہ بنایا۔ خاص طور پر شہری اور سیاسی حقوق سے متعلق بین الاقوامی میثاق جو سرعام پھانسی کو ظالمانہ اور غیرانسانی قرار دیتا ہے۔انسانی حقوق کی وزارت کے سیکرٹری نے بھی کمیٹی کو “بینکاک رولز” کے مختلف پہلوئوں سے آگاہ کیا، جہاں تک زیرسماعت اور سزا یافتہ قیدیوں کا تعلق ہے اس میں صنفی حساسیت پر زور دیا لیکن وضاحت کی کہ یہ قوانین غیر پابند ہیں، اس طریقے اور حالات کی وجہ سے جس میں انہیں جاری کیا گیا تھا۔
کمیٹی نے پاکستان میں ان قوانین کے نفاذ کی صورتحال پر بحث کو آئندہ اجلاس تک موخر کر دیا جہاں خواتین کی حیثیت سے متعلق قومی کمیشن کی چیئرپرسن بھی شرکت کریں گی اور کمیشن کے نمائندوں کو بھی ہدایت کی کہ وہ کچھ اضافی ڈیٹا اکٹھا کر کے اپنے ساتھ لائیں۔
اجلاس میں سینیٹرز ڈاکٹر مہر تاج روغانی، ڈاکٹر محمد ہمایوں مہمند، کامران مائیکل، مشاہد حسین سیّد اور سیّد وقار مہدی نے شرکت کی۔ اس موقع پر متعلقہ محکموں کے اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔











