ملتان ، 08 اگست (اے پی پی ):کمشنر عامر کریم خان سے تمباکو کنٹرول وفد نے ملاقات کی اور انہیں تفصیلی بریفنگ دی۔ ملاقات میں سگریٹ خریداری پر پابندی کے اطلاق اور ڈویژن کو سموکنگ فری بنانے کے اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔
کمشنر عامر کریم خان نے کہا کہ سگریٹ انڈسٹری کے مکمل خاتمے تک تمباکو نوشی سے نجات ناممکن ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پارکوں اور سرکاری دفاتر میں نو سموکنگ بورڈز نصب کر دیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک مربوط پالیسی کے تحت ہی نئی نسل کو تمباکو نوشی سے بچایا جا سکتا ہے۔ تمباکو نوشی کینسر اور دیگر جان لیوا بیماریوں کا بڑا سبب ہے، اس سے بچاؤ کے لیے ہر سطح پر سخت اقدامات ضروری ہیں۔
وفد نے بریفنگ میں بتایا کہ عوامی مقامات اور دفاتر میں تمباکو نوشی قانوناً جرم ہے جبکہ سیکشن 5 کے تحت تمام تعلیمی اداروں میں تمباکو مصنوعات کے استعمال پر مکمل پابندی عائد ہے۔ اسکول بس اور ویگن میں بھی تمباکو نوشی ممنوع ہے۔ میڈیا میں تمباکو مصنوعات کے اشتہارات پر پابندی ہے، اور اٹھارہ سال سے کم عمر افراد کو سگریٹ فروخت کرنا جرم ہے۔
مزید بتایا گیا کہ تعلیمی اداروں سے پچاس میٹر کے اندر سگریٹ کی فروخت، تقسیم اور ذخیرہ کرنے کی اجازت نہیں۔ تعلیمی اداروں، دفاتر اور پارکوں میں نو سموکنگ بورڈ آویزاں کرنا لازمی ہے۔ خلاف ورزی کرنے والوں پر دس ہزار سے ایک لاکھ روپے تک جرمانہ یا تین ماہ قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
بریفنگ میں یہ بھی کہا گیا کہ تمباکو نوشی کینسر، دل کی بیماری اور فالج کا سبب بنتی ہے۔ دنیا بھر میں ہر سال پچاس لاکھ افراد اور پاکستان میں سالانہ ایک لاکھ ساٹھ ہزار افراد تمباکو نوشی سے موت کا شکار ہو جاتے ہیں، جبکہ روزانہ چار سو اڑتیس افراد اس مہلک عادت کے باعث جان کی بازی ہار دیتے ہیں۔ سیکنڈ ہینڈ اسموکنگ سے دنیا میں ہر سال آٹھ لاکھ اموات ریکارڈ کی جاتی ہیں۔اجلاس میں متعلقہ محکموں کے افسران موجود تھے۔











