اسلام آباد، 12 اگست (اے پی پی ): وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ 2025 کے دوران پاکستان کے تمام بڑے اقتصادی اشاریے مثبت سمت میں رہے، جی ڈی پی گروتھ میں اضافہ اور مہنگائی میں نمایاں کمی ہوئی جبکہ بیرونی و مالیاتی شعبے مستحکم رہے۔
وزارت منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کی جانب سے جاری ماہانہ ڈویلپمنٹ رپورٹ کے اجرا کے سلسلے میں منعقدہ پریس کانفرنس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے میڈیا کو رپورٹ کے اہم نکات اور تازہ ترین ماہانہ ترقیاتی اپ ڈیٹس پر تفصیلی بریفنگ دی۔
انہوں نے بتایا کہ صرف جولائی میں برآمدات 17 فیصد بڑھیں اور کرنٹ اکاؤنٹ میں گزشتہ مالی سال 2.1 ارب ڈالر کا سرپلس ریکارڈ کیا گیا۔ ترسیلات زر جولائی میں 7.4 فیصد اضافے کے ساتھ 3.2 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ انہوں نے کہا کہ پرائمری بیلنس سرپلس 24 سال کی بلند ترین سطح پر ہے، جو معیشت کی بحالی کا ثبوت ہے۔
احسن اقبال کے مطابق بہتر مالی نظم کے باعث گزشتہ سال 1,068 ارب روپے ترقیاتی فنڈز پر خرچ کیے گئے، اور ملکی تاریخ میں پہلی بار ترقیاتی اخراجات کی شرح 98 فیصد تک پہنچی۔ عالمی ریٹنگ ایجنسیوں نے بھی پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کی تصدیق کی۔ جولائی میں افراط زر کم ہو کر 4.1 فیصد رہ گئی جو گزشتہ سال اسی ماہ 11 فیصد تھی، جبکہ سالانہ مہنگائی کی شرح 38 فیصد سے کم ہو کر صرف 4 فیصد پر آگئی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج دنیا کی کامیاب ترین مارکیٹس میں شامل ہو چکی ہے اور سرمایہ کار پاکستان پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں۔ امریکہ کے ساتھ ٹیرف میں نرمی کا معاہدہ تجارتی مواقع میں اضافہ کرے گا، اور یہ پاکستانی کاروباری برادری پر منحصر ہے کہ امریکی مارکیٹ سے کتنا فائدہ اٹھاتی ہے۔
وزیر منصوبہ بندی نے بتایا کہ پہلی بار زراعت کا قومی ڈیٹا اکٹھا کیا گیا ہے، زرعی ترقی کے منصوبے تیزی سے مکمل کیے جائیں گے، اور سی ڈی ڈبلیو پی نے 8 منصوبوں کی منظوری دی جبکہ 3 منصوبے ایکنک کو بھیجے گئے ہیں جن سے 2 ہزار روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے اپنا سیٹلائٹ کامیابی سے خلاء میں بھیج دیا ہے اور 2026 میں پاکستان کا پہلا خلا باز چین کے ساتھ سائنسی تجربات کرے گا۔ پی ایس ڈی پی فنڈز کے اجرا کے لیے جامع لائحہ عمل تیار کیا جا رہا ہے، پہلی سہ ماہی میں فنڈز میں 5 فیصد اضافہ اور آخری سہ ماہی میں فنڈز کا اجرا 40 فیصد سے کم کر کے 30 فیصد کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹیرف لائنز اور ڈیوٹیز میں کمی سے خام مال کی درآمد آسان ہوگی، جس سے برآمدات میں مزید اضافہ ممکن ہوگا۔











